گھریلو تشدد بل پر دستخط: بیوی کو گھورنا، طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی پر سزا کا قانون نافذ ہوگیا

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)صدر مملکت آصف علی زرداری نے گھریلو تشدد سمیت 7 قوانین کی منظوری دے دی جس کے بعد بیوی پر تشدد، اسے گھورنا، طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینے پر سزا کا قانون نافذ ہوگیا۔

میڈیا نیوز کے مطابق صدر مملکت نے گھریلو تشدد ترمیمی بل 2026، دانش سکول اتھارٹی ترمیمی بل کی منظوری دیدی۔

صدر مملکت نے انکم ٹیکس ترمیمی بل،ایکسپوٹ ڈویلپمنٹ فنڈ اور ٹرانسفر آف ریلوے ترمیمی بل پر بھی دستخط کردئیے۔

اس کے علاوہ صدر مملکت نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق نیشنل ٹیرف کمیشن کی بھی توثیق کردی۔

صدر مملکت کے دستخط کے بعد ساتوں قوانین ایکٹ آف پارلیمنٹ بن گئے۔ اس سے قبل تین قوانین مشترکہ اجلاس جبکہ چار قومی اسمبلی اور سینیٹ میں منظور ہوئے تھے۔

گھریلو تشدد بل کیا ہے؟

23 جنوری کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ڈومیسٹک وائلینس (پریوینشن اینڈ پروٹیکشن) ایکٹ 2026 منظورکیا گیا جس کا اطلاق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پر ہوگا۔

ڈومیسٹک وائلینس ایکٹ 2026ء کا اطلاق بیوی، بچوں، گھر کے بزرگ افراد، لے پالک، ٹرانس جینڈر اور گھر میں ایک ساتھ رہنے والے افراد پر ہوگا۔

قانون میں بیوی، بچوں یا گھر میں رہنے والے دیگر افراد کو گالی دینا، جذباتی یا نفسیاتی طور پر پریشان کرنا بھی جرم ہوگا اور اس جرم کے مرتکب افراد کو تین سال تک کی سزا، ایک لاکھ روپے تک کا جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا۔

مزید خبریں

Back to top button