پانی ختم!خاموش عالمی ایمرجنسی، پاکستان ریڈ زون میں

تحریر:نہال ممتاز

اقوامِ متحدہ نے ایک ایسی وارننگ جاری کی ہے جسے محض ماحولیاتی رپورٹ کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ تازہ عالمی تجزیے کے مطابق دنیا “گلوبل واٹر دیوالیہ پن” کے دور میں داخل ہو چکی ہے ،یعنی زمین اتنا پانی کھو چکی ہے جو اب قدرتی طور پر واپس آنا ممکن نہیں۔ یہ محض پانی کی کمی نہیں بلکہ ایک ایسا مستقل خسارہ ہے جس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

یہ بحران صرف افریقہ، یورپ یا لاطینی امریکہ تک محدود نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اس عالمی پانی دیوالیہ پن کے سب سے خطرناک زون میں شامل ہو چکا ہے، اور شاید یہی پہلو اس رپورٹ کو ہمارے لیے سب سے زیادہ تشویشناک بناتا ہے۔

دنیا پانی کے دیوالیہ پن کی طرف بڑھ رہی ہے اور بد قسمتی سے پاکستان اس صف میں سب سے آگے کھڑے ملکوں میں دکھائی دے رہاہے۔

اقوامِ متحدہ یونیورسٹی کی رپورٹ کے مطابق دہائیوں سے جاری انسانی سرگرمیوں جن میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی، آلودگی، مٹی کی تباہی، ناقص زرعی پالیسیاں اور پانی کی غلط تقسیم شامل ہیں ، نے دنیا کے قدرتی آبی نظام کو ناقابلِ واپسی نقصان پہنچایا ہے۔ گلوبل وارمنگ نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ انتباہ کہیں زیادہ سنگین ہے، کیونکہ یہ ملک پہلے ہی فی کس پانی کی شدید قلت کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ چند دہائیاں قبل پانی سے مالا مال سمجھا جانے والا یہ ملک آج تیزی سے واٹر اسکارس سے واٹر بینکرپٹ کی جانب بڑھ رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اب “پانی کا بحران” جیسے الفاظ بھی پاکستان کی صورتحال کو پوری طرح بیان نہیں کرتے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہاں زیرِ زمین پانی اندھا دھند نکالا جا چکا ہے، دریاؤں کے قدرتی بہاؤ کو انسانی مداخلت نے بری طرح بگاڑ دیا ہے، پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے میں ریاستی سطح پر مسلسل ناکامی رہی ہے، جبکہ زراعت میں پانی کا بے دریغ اور غیر سائنسی استعمال ایک معمول بن چکا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ایک طرف پاکستان تباہ کن سیلابوں کا سامنا کر رہا ہے اور دوسری طرف خشک شہر، خالی ٹیوب ویل اور تیزی سے نیچے جاتا ہوا زیرِ زمین پانی ایک تلخ حقیقت بنتا جا رہا ہے۔ یہ تضاد دراصل اسی پانی کے دیوالیہ پن کی سب سے واضح علامت ہے۔

عالمی رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ جب پانی کی کمی کسی خطے میں زراعت کو متاثر کرتی ہے تو اس کے اثرات خوراک کی قیمتوں، مہنگائی، بے روزگاری اور سیاسی عدم استحکام کی صورت میں پوری دنیا میں پھیلتے ہیں۔ پاکستان میں یہ اثرات پہلے ہی محسوس کیے جا رہے ہیں، جہاں دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف ہجرت، کسانوں کی معاشی تباہی اور خوراک کی غیر یقینی صورتحال تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اگر پانی کے اس دیوالیہ پن کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو اس کا بوجھ ہمیشہ کی طرح کمزور طبقوں ، چھوٹے کسانوں، غریب شہریوں، خواتین اور نوجوانوں پر ہی پڑے گا۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں معاشی دباؤ پہلے ہی شدید ہے، یہ بحران سماجی بے چینی اور تنازعات کو جنم دے سکتا ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ پانی کو محض نل سے آنے والی سہولت نہیں بلکہ قومی سلامتی کے ایک بنیادی مسئلے کے طور پر دیکھا جائے۔ قدرتی آبی نظام کی بحالی، آلودگی پر سخت کنٹرول، زرعی اصلاحات اور طویل المدتی منصوبہ بندی کے بغیر پاکستان اس خاموش مگر خوفناک تباہی سے خود کو محفوظ نہیں رکھ سکتا۔

مزید خبریں

Back to top button