افغانستان میں غلام بنانا قانونی قرار‼️

کابل(جانو ڈاٹ پی کے)افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جہاں افغان طالبان کی حکومت سے منسوب حالیہ احکامات اور عدالتی فیصلوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مختلف ذرائع اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق طالبان قیادت اور ان کی قائم کردہ عدالتوں کی جانب سے ایسے فیصلے سامنے آئے ہیں جو بنیادی انسانی حقوق، بالخصوص خواتین اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق سے متصادم قرار دیے جا رہے ہیں۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نئے قوانین کے تحت افغان معاشرے کو مختلف طبقات میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں غلام اور آزاد افراد شامل ہیں،اور دونوں کے حقوق الگ الگ متعین کیے گئے ہیں۔ان دعوؤں کے مطابق یہ نظام معاشرتی مساوات کے اصول کے خلاف ہے اور ماضی کے فرسودہ غلامانہ ڈھانچوں کی یاد دلاتا ہے۔

غیر سنی مسلمانوں، بشمول شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں، کو قانونی طور پر گمراہ یا بدعتی قرار دے کر ان کے مذہبی اظہار پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔اگر وہ اپنے مسلک یا عبادات کا اعلانیہ اظہار کریں تو سخت سزاؤں کی بات بھی رپورٹس میں کی گئی ہے۔

انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ طالبان پر تنقید یا اختلافِ رائے کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے، جس پر جسمانی سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین کے حوالے سے جاری احکامات میں عورت کو مرد کی قانونی ذمہ داری قرار دے کر مرد کو وسیع اختیارات دینے کے دعوے سامنے آئے ہیں، جنہیں خواتین کے خلاف تشدد اور جبر کے لیے خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔

کچھ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کم عمری کی شادی کو قانونی جواز فراہم کیا گیا ہے اور گھروں میں خواتین کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لیے سخت اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، جن میں رہائشی گھروں کی کھڑکیوں کو بند کرنے جیسے احکامات شامل بتائے جاتے ہیں۔

تنظیم رواداری سمیت بعض اداروں کی جانب سے جاری تجزیوں میں افغان معاشرے کی درجہ بندی علماء، شرفا، درمیانہ طبقے اور غلام جیسے زمروں میں کیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے، جسے بعض مبصرین قدیم ذات پات کے نظام سے مشابہ قرار دے رہے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی طالبان حکومت کی جانب سے باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آ سکی۔

ماہرین اور عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ رپورٹس درست ثابت ہوتی ہیں تو افغانستان ایک بار پھر انسانی حقوق کے حوالے سے شدید تنقید اور عالمی دباؤ کی زد میں آ سکتا ہے، جبکہ عالمی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ زمینی حقائق کی آزادانہ تحقیقات کر کے واضح مؤقف اختیار کرے۔

مزید خبریں

Back to top button