بنا "غزہ "بورڈ آف پیس ؟ بنا شرم "امن” نیلام

نہال ممتاز
عالمی سیاست میں بعض اوقات امن بھی کسی مہنگے کنٹری کلب کی رکنیت جیسا محسوس ہونے لگتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا متنازعہ منصوبہ “بورڈ آف پیس” اسی تاثر کو مزید گہرا کرتا ہے۔ بظاہر اس بورڈ کا مقصد غزہ میں اسرائیل اور حماس کی جنگ ختم کرنا، جنگ بندی کے بعد کے معاملات سنبھالنا اور تعمیرِ نو کی نگرانی کرنا ہے، مگر لیک ہونے والی دستاویزات اس منصوبے کو ایک مختلف اور تشویشناک سمت میں لے جاتی ہیں۔
یہ بورڈ ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کا حصہ بتایا جا رہا ہے، جس میں ڈونلڈ ٹرمپ خود بطور چیئرمین مرکزی اختیار رکھتے ہیں۔ یہ عہدہ وقتی نہیں بلکہ عملاً تاحیات تصور کیا جا رہا ہے۔
مستقل رکنیت کے لیے ممالک سے ایک ارب ڈالر نقد کی شرط رکھی گئی ہے، اور جو ملک ادائیگی نہ کرے اس کی رکنیت تین سال بعد ختم ہو جائے گی۔
یوں امن، سفارت کاری اور عالمی ذمہ داری ایک مالی معاہدے میں بدلتی نظر آتی ہے۔
اس بورڈ کے اراکین کی فہرست مزید سوالات کو جنم دیتی ہے۔ نمایاں ناموں میں جیرڈ کشنر شامل ہیں، جو نہ صرف ٹرمپ کے قریبی مشیر رہ چکے ہیں بلکہ ان کے داماد بھی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے معاملات میں پہلے ہی ایک غیر منتخب اور متنازع کردار ادا کرنے والے "کشنر "کی شمولیت اس تاثر کو مضبوط کرتی ہے کہ یہ بورڈ ادارہ جاتی شفافیت سے زیادہ خاندانی وفاداری اور ذاتی اعتماد پر قائم ہے۔
اسی فہرست میں سابق برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر کا نام بھی شامل ہے، جن کا “امن” کے ساتھ تعلق عالمی سطح پر ہمیشہ متنازع رہا ہے۔ عراق جنگ میں ان کے کردار، جھوٹے انٹیلی جنس دعوؤں اور مشرقِ وسطیٰ میں تباہ کن نتائج نے ان کی ساکھ پر گہرے سوالات چھوڑے ہیں۔ ایسے شخص کو غزہ جیسے حساس اور زخم خوردہ خطے کے مستقبل سے جوڑنا یورپی عوام اور سفارت کاروں کے لیے خاص طور پر تشویش کا باعث ہے۔
بورڈ میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا جیسے طاقتور نام بھی شامل ہیں، جب کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو بھی دعوت دی گئی ہے۔ یہی نکتہ یورپ کے لیے سب سے زیادہ سیاسی طور پر زہریلا ثابت ہوا۔
یورپی ردعمل خاصا سخت ہے۔ فرانس نے واضح انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ اقوامِ متحدہ کے نظام کو کمزور کرنے اور ایک متوازی عالمی طاقت ڈھانچہ کھڑا کرنے کی کوشش ہے۔ اس انکار پر ٹرمپ نے فرانسیسی شراب پر 200 فیصد ٹیرف لگانے کی دھمکی دے دی، جس سے یہ واضح ہوا کہ سفارت کاری کے بجائے دباؤ اور سزا کا راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کے اندر بھی مکمل اتفاق نہیں۔ پولینڈ کے وزیرِ اعظم ڈونلڈ ٹسک نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ کوئی بھی ملک صرف “سیٹ خرید کر” ایسے فورم میں شامل نہیں ہو سکتا، اس کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہے۔ کئی یورپی سفارت کاروں کے نزدیک یہ بورڈ امن کے بجائے طاقت، دولت اور ذاتی اثر و رسوخ کا مظہر ہے۔
سب سے چونکا دینے والا انکشاف یہ ہے کہ لیک ہونے والے چارٹر میں لفظ “غزہ” کا سرے سے ذکر ہی موجود نہیں۔ یعنی جس مسئلے کے حل کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، وہی بنیادی دستاویز سے غائب ہے۔ سیاست میں ایسی خاموشی اکثر سب سے زیادہ بولتی ہے۔
سوال یہ بھی ہے کہ امن کے لیے عالمی ادارے اقوام متحدہ کی حیثیت کیا رہ جائے گی۔کیا اقوام متحدہ کی جگہ غلام ٹرمپیہ کلب قائم کیا جا رہا ہے؟
کیوں کہ “بورڈ آف پیس” ایک روایتی امن منصوبے کے بجائے ایک ایسا ماڈل دکھائی دیتا ہے جو کارپوریٹ سوچ، خاندانی اثر، متنازع شخصیات اور مالی طاقت پر کھڑا ہے۔
اب اصل سوال یہ نہیں کہ اس بورڈ سے امن آئے گا یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا عالمی امن ایک ارب ڈالر کے بدلے برائے فروخت ہے اور جو یہ فیس نہ بھر سکے سزا کے لیے تیار رہے۔

