سکھر میں نہروں سے مٹی اور ریت کی کھلے عام چوری، ماحولیاتی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی

سکھر (جانوڈاٹ پی کے) سکھر بیراج سے نکلنے والی مختلف نہروں سے مٹی اور ریت کی کھلے عام چوری نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، جبکہ ماحولیاتی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔
شہریوں کے مطابق نہروں کی بھل صفائی کے دوران نکالی جانے والی مٹی اور ریت کو بااثر مافیا منظم طریقے سے فروخت کر رہا ہے، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں ٹریکٹر ٹرالیاں کھیرتھر کینال، دادو کینال اور رئیس کینال سے مٹی اور ریت اٹھا کر لے جا رہی ہیں، یہ سلسلہ دن دہاڑے جاری ہے۔
مٹی اور ریت کی غیرقانونی نقل و حمل کے باعث سڑکوں اور دیہی راستوں پر گرد و غبار کے بادل چھائے رہتے ہیں، جس سے شہریوں، راہگیروں اور بالخصوص موٹر سائیکل سواروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اڑتی ہوئی دھول کے باعث سانس لینا دشوار ہو چکا ہے، آنکھوں میں جلن، کھانسی اور دیگر بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ ماحولیاتی آلودگی تشویشناک سطح تک پہنچ چکی ہے۔
دیہی علاقوں کے مکینوں کے مطابق اس صورتحال سے فصلوں اور رہائشی علاقوں کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ علاقہ مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ نہروں کی صفائی کے نام پر نکالی جانے والی مٹی کو سرکاری اصولوں کے تحت مقررہ مقامات پر منتقل کرنے کے بجائے مافیا فروخت کر رہا ہے، جس سے سرکاری خزانے کو بھی بھاری نقصان پہنچ رہا ہے۔
شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سکھر بیراج اور نہروں کے اطراف مٹی اور ریت کی غیرقانونی چوری فوری طور پر بند کرائی جائے، ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور شہریوں کو اس اذیت ناک صورتحال سے نجات دلائی جائے۔ شہری حلقوں نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ماحولیاتی اور انسانی صحت کے مسائل مزید سنگین صورت اختیار کر سکتے ہیں۔



