نادر جمالی ہلاکت کے معاملے نے نیا رخ اختیار کرلیا،بھائی کا سیشن کورٹ سے رجوع

دادو(رپورٹ:عابد ببر/جانو ڈاٹ پی کے) دادو میں مبینہ پولیس مقابلے میں شہری نادر جمالی کی ہلاکت کے معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے، مقتول کے بھائی بابر جمالی نے ایف آئی اے سے شفاف تحقیقات کے لیے سیشن کورٹ دادو سے رجوع کر لیا۔ درخواست میں ایس ایس پی دادو، ڈی ایس پی سٹی، دو ایس ایچ اوز سمیت پندرہ پولیس اہلکاروں کو نامزد کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق نادر جمالی کو اعلیٰ پولیس افسران کی ہدایات پر جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا۔ درخواست کے ساتھ مبینہ پولیس مقابلے سے منسلک ویڈیو شواہد بھی عدالت میں جمع کرا دیے گئے ہیں۔ سیشن جج کی عدالت نے درخواست کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے ایف آئی اے ڈپٹی ڈائریکٹر حیدرآباد، ڈی آئی جی حیدرآباد، ایس پی دادو کمپلین سیل اور متعلقہ ایس ایچ او بی سے انتیس جنوری تک جواب طلب کر لیا ہے۔
دادو میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران شہری نادر جمالی کی ہلاکت کے معاملے نے سنگین صورت اختیار کر لی ہے۔ مقتول کے بھائی بابر جمالی نے واقعے کی غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کے لیے سیشن کورٹ دادو میں درخواست دائر کی ہے۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نادر جمالی کو ایس ایس پی دادو اور ڈی ایس پی سٹی کی ہدایات پر جعلی پولیس مقابلے میں قتل کیا گیا۔ درخواست گزار کی جانب سے پولیس مقابلے سے متعلق ویڈیو شواہد بھی عدالت میں بطور ثبوت پیش کیے گئے ہیں۔ عدالت نے درخواست کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے ایف آئی اے ڈپٹی ڈائریکٹر حیدرآباد، ڈی آئی جی حیدرآباد، ایس پی دادو کمپلین سیل اور متعلقہ ایس ایچ او بی سے انتیس جنوری کو جواب طلب کر لیا ہے، جبکہ کیس کی مزید سماعت مقررہ تاریخ پر ہو گی۔



