ٹھٹھہ: دھابیجی تھانے کے ایس ایچ او کا سینئر وکیل پر مبینہ تشدد اور حوالات میں بند کرنے کیخلاف وکلاء کا شدید احتجاج

ٹھٹھہ ( جاويد لطيف ميمن نمائندہ جانوڈاٹ پی کے )دھابیجی تھانے کے ایس ایچ او مبین پرہیار کی جانب سے سینئر وکیل اور سماجی رہنما کامریڈ گل محمد خشک کو مبینہ طور پر یرغمال بنا کر تشدد کرنے اور لاک اپ کرنے والے واقعہ کے خلاف وکلا کی جانب سے پریس کانفرنس۔

ٹھٹھہ ضلع کے دھابیجی تھانے کے ایس ایچ او مبین پرہیار کی جانب سے سینئر وکیل اور سماجی رہنما کامریڈ گل محمد خشک کو مبینہ طور پر یرغمال بنا کر تشدد کرنے اور لاک اپ کرنے کا واقعہ ضلع میں شدید کشیدگی کا باعث بن گیا ہے، جس کے خلاف ضلع کے صحافیوں، وکلاء، سیاسی و سماجی حلقوں نے سخت مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے خبر کے مطابق سینئر وکیل کامریڈ گل محمد خشک نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ اپنے مؤکل کے قانونی کام کے سلسلے میں دھابیجی تھانے گئے تھے، جہاں ایس ایچ او مبین پرہیار مبینہ طور پر نشے کی حالت میں تھے، کانپ رہے تھے اور بات چیت کے دوران گالی گلوچ کرتے ہوئے انہیں تھپڑ مارا، شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں لاک اپ کر دیا کامریڈ گل محمد خشک نے الزام عائد کیا کہ ایس ایچ او نے خود کو “ٹھٹہ ضلع کا بادشاہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ سڑک سے گزرنے والی ہر قسم کی تجارت اور ٹریفک سے انہیں ٹیکس دینا ہوگا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ ایک کمپنی کے لیگل ایڈوائزر ہیں، جس کی پتی سے بھری گاڑی جو قانونی تھی، چند روز قبل پولیس نے پکڑ کر تھانے میں کھڑی کر دی تھی۔ جب وہ ایس ایچ او سے ملاقات کے لیے گئے تو انہیں گٹکے کی ایف آئی آر درج کرنے کی دھمکی دی گئی، جس پر انہوں نے قانون کے مطابق پتی کی ایف آئی آر درج کرنے کی بات کی، جس پر ایس ایچ او طیش میں آ گیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا سینئر وکیل کے مطابق اس واقعے کے خلاف انہوں نے سیکشن 22-اے کے تحت درخواست دائر کر دی ہے اور جلد ہی ایس ایچ او مبین پرہیار کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جائے گی اس موقع پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ٹھٹہ کے احاطے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ٹھٹہ کے سابق صدر اور سینئر وکیل ایڈووکیٹ پنھون عقیلی نے کہا کہ ٹھٹہ میں اس وقت پولیس گردی کا راج ہے، بار کونسلیں قانون کی محافظ ہیں اور اگر کوئی بھی قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو ہم اس کے خلاف مزاحمت کریں گے انہوں نے مزید کہا کہ ضلع میں چوریاں اور ڈکیتیاں عام ہو چکی ہیں جبکہ پورا ضلع منشیات میں ڈوبا ہوا ہے، چرس، افیون، ٹھرو اور آئس کا استعمال خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے، لیکن ٹک ٹاک کے شوقین ایس ایچ او کو صرف فحاشی کے اڈے ہی نظر آتے ہیں بار رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جیلیں اصلاحی ادارے ہوتی ہیں جہاں مجرموں کی تربیت کر کے انہیں معاشرے کا بہتر فرد بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، مگر ٹھٹہ کی نئی جیل عذاب گھر بن چکی ہے، جہاں قیدیوں پر انسانیت سوز تشدد کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ایک قیدی جاں بحق ہو چکا ہے، جبکہ اس کے لواحقین کے احتجاج پر بھی شدید تشدد کیا گیا اس موقع پر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ٹھٹہ کے نائب صدر وقاص شاہ، غلام سرور پلیجو، عبدالمجید سمون سمیت بڑی تعداد میں وکلاء موجود تھے، جنہوں نے مطالبہ کیا کہ ایس ایچ او مبین پرہیار کو فوری طور پر معطل کر کے اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔

مزید خبریں

Back to top button