بولٹن مارکیٹ کو آگ لگانے اور 12 مئی کے ذمہ دار آج سیاست کر رہے ہیں،شرجیل انعام میمن

اٹھارویں ترمیم کے خلاف بیانات افسوسناک ہیں، اگر کسی کو اعتراض ہے تو اسمبلی میں بات کرے، ٹی وی پر بیان بازی سے مسائل حل نہیں ہوتے

کراچی(جانوڈاٹ پی کے) سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ ایک افسوسناک اور دردناک واقعہ ہے جس پر پوری قوم اشکبار اور سوگوار ہے، یہ غم صرف متاثرہ خاندانوں کا نہیں بلکہ ہم سب کا ہے۔ ماضی میں بولٹن مارکیٹ کو آگ لگانے اور 12 مئی کے واقعات کے ذمہ دار وہی عناصر ہیں جو آج سیاست کر رہے ہیں۔

کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سانحہ کے پہلے دن سے ہی حکومت سندھ ایک نکاتی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے کہ ملبے تلے دبے تمام افراد کو نکالا جائے اور لاپتہ افراد کا سراغ لگایا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک 86 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، ڈی این اے ٹیسٹ کا عمل جاری ہے جبکہ باقی افراد کی تلاش کے لیے انتظامیہ شب و روز مصروف ہے۔

سندھ کے سینئر وزیر نے اعلان کیا کہ سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو فی کس ایک کروڑ روپے معاوضہ دیا جائے گا جبکہ 1200 سے زائد متاثرہ دکانداروں کے نقصانات کا بھی ازالہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ٹمبر مارکیٹ اور عاشورہ کے موقع پر بولٹن مارکیٹ میں آتشزدگی کے واقعات کے بعد حکومت سندھ نے متاثرین کے نقصانات پورے کیے، اس بار بھی چیمبر آف کامرس کے ذریعے نقصان کا شفاف تخمینہ لگوا کر دیانتداری سے معاوضہ تقسیم کیا جائے گا۔

شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ یکم جنوری 2024 کو آڈٹ رپورٹ پیش کی گئی تھی اور تمام دکانوں کو نوٹس بھیجے گئے تھے، اس وقت نگران وزیراعلیٰ موجود تھے۔ سانحہ کی شفاف تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو آگ لگنے کی وجوہات، ریسکیو میں کوتاہی اور دیگر پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔

انہوں نے بتایا کہ گل پلازہ کی فرانزک انکوائری بھی جاری ہے جبکہ تخریب کاری کے پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ رپورٹ آنے کے بعد اگر ان کا اپنا نام بھی سامنے آیا تو کسی کو نہیں بخشا جائے گا۔

کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کے مطالبے پر ردعمل دیتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے سے کیا ایسے واقعات رک جائیں گے؟ انہوں نے الزام لگایا کہ ماضی میں بولٹن مارکیٹ کو آگ لگانے اور 12 مئی کے واقعات کے ذمہ دار وہی عناصر ہیں جو آج سیاست کر رہے ہیں۔

انہوں نے ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال کی پرانی ویڈیوز پیش کرتے ہوئے کہا کہ مصطفیٰ کمال ماضی میں اپنے قائد کے لیے لڑتے تھے اور آج انہی کے خلاف بات کر رہے ہیں، یہ لوگ اپنے قائد بدلتے رہتے ہیں۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے خلاف بیانات افسوسناک ہیں، اگر کسی کو اعتراض ہے تو اسمبلی میں بات کرے، ٹی وی پر بیان بازی سے مسائل حل نہیں ہوتے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح لاشوں کی بازیابی، لواحقین کو انصاف کی فراہمی اور ذمہ داران کو کیفرِ کردار تک پہنچانا ہے، حکومت سندھ ماضی کی طرح اس بار بھی متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے اور پیچھے نہیں ہٹے گی۔

مزید خبریں

Back to top button