ایم کیو ایم نے 18 ویں ترمیم ختم کرنے اور کراچی کو وفاق کا حصہ بنانے کا مطالبہ کردیا

کراچی(جانوڈاٹ پی کے) متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے گل پلازہ سانحے کے بعد کراچی کو وفاق کے تحت لانے اور اٹھارویں ترمیم ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست نے کراچی کو کس کے حوالے کر رکھا ہے، شہر کے عوام مسلسل سوال کر رہے ہیں کہ آخر کچھ کیوں نہیں کیا جا رہا۔ مصطفیٰ کمال نے الزام لگایا کہ کراچی کے عوام کی نسل کشی کی جا رہی ہے اور شہری مسائل کے حل کے لیے کوئی موثر اقدام نہیں کیا جا رہا۔

انہوں نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم پر بلدیہ فیکٹری، بھتہ خوری اور بوری بند لاشوں کے الزامات لگائے جاتے ہیں، حالانکہ ایم کیو ایم کا ان جرائم سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت چلانے کے لیے پیپلز پارٹی کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے جس کے باعث نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے مطالبہ کیا کہ کراچی کو وفاق کے تحت ملک کا فنانشل کیپیٹل بنایا جائے اور شہر میں پانی، سڑکیں اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے آرٹیکل 148 اور 149 کے تحت وفاقی مداخلت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم ملک اور کراچی کے لیے ناسور بن چکی ہے اور اسے واپس لینا ضروری ہے۔

انہوں نے سندھ حکومت پر الزام لگایا کہ ایم کیو ایم کی جانب سے فنڈز حاصل کرنے کی کوششوں کو وزیراعلیٰ سندھ روک دیتے ہیں، جسے انہوں نے جمہوری دہشت گردی قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ اسے فوری طور پر ختم کیا جائے۔ مصطفیٰ کمال نے حکومت پاکستان اور ریاست سے اپیل کی کہ کراچی کے عوام کو انصاف فراہم کیا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button