فیصلے بگڑے ہوئے یا ذہنی حالت؟ ٹرمپ پر سوال اٹھنے لگے

نہال ممتاز
ٹرمپ کے حالیہ Truth Social بیانات حقیقت سے دور، متنازع اور خطرناک حد تک بے ساختہ ہیں، اور ان کی خراب ذہنی حالت اور جذباتی غیر استحکام ہر پوسٹ میں عیاں ہے۔ گرین لینڈ پر قبضے کے خیالی منصوبے، صحافیوں کے خلاف جارحانہ دعوے اور بین الاقوامی رہنماؤں کے نجی پیغامات کا بے ہودہ افشا یہ واضح کرتا ہے کہ ٹرمپ کے لیے دنیا کی حقیقت کی کوئی اہمیت نہیں،ان کے بیانات صرف ذاتی شہرت، غرور اور غیرسنجیدہ قیادت کی ترجمانی کرتے ہیں۔
ٹرمپ کی یہ بونگیاں نہ صرف خبروں میں گردش کر رہی ہیں بلکہ متعدد ممالک اور سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل اور تشویش بھی پیدا کر رہی ہیں۔
سابق نائب صدر ڈک چینی کے معالج اور سی این این کے طبی تجزیہ کار ڈاکٹر جوناتھن رینر نے کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ذہنی فٹنس کی باضابطہ تحقیقات کی جائیں اور 25ویں آئینی ترمیم کے اطلاق کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا استدلال ناروے کے وزیر اعظم کو لکھے گئے اس خط سے جوڑا جا رہا ہے جس میں ٹرمپ نے گرین لینڈ کے حصول کی خواہش کو امن کا نوبل انعام نہ ملنے سے منسلک کیا۔ اس خط کے بعد بعض ڈیموکریٹ ارکان نے صدر کی ذہنی کیفیت کو قومی سلامتی کے لیے تشویش ناک قرار دیا۔
تاہم اصل سوال یہ نہیں کہ ٹرمپ متنازع یا غیر معمولی بیانات دیتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ایسے بیانات آئینی نااہلی کے دائرے میں آتے ہیں؟ امریکی آئین کی 25ویں ترمیم کسی صدر کے سیاسی فیصلوں، طرزِ گفتگو یا مقبولیت کا فیصلہ نہیں کرتی۔ اس کا واحد معیار یہ ہے کہ آیا صدر فیصلے کرنے، معلومات سمجھنے اور ریاستی نظام کو چلانے کی عملی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔
اسی لیے 25ویں ترمیم کو مواخذے سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔ مواخذہ سیاسی یا قانونی الزامات پر مبنی ہوتا ہے، جبکہ 25ویں ترمیم صرف اس وقت زیرِ غور آتی ہے جب صدر کسی سنگین جسمانی یا ذہنی حالت کے باعث اپنے فرائض انجام دینے سے قاصر ہو۔ یہ اختلافِ رائے یا سیاسی ناپسندیدگی کے لیے نہیں بنائی گئی۔
اس ترمیم کا سب سے پیچیدہ پہلو یہ ہے کہ اس کا آغاز صدر کے مخالفین نہیں بلکہ خود اقتدار کے اندر سے ہوتا ہے۔ نائب صدر اور کابینہ کی اکثریت کو یہ اعلان کرنا پڑتا ہے کہ صدر حکومت کرنے کے قابل نہیں رہا۔ عملی سیاست میں ایسا ہونا غیر معمولی حد تک مشکل ہے، کیونکہ کابینہ کے ارکان صدر کے مقرر کردہ ہوتے ہیں اور نائب صدر عموماً اس کا قریبی سیاسی اتحادی۔ یہی وجہ ہے کہ 25ویں ترمیم امریکی تاریخ میں اب تک صرف عارضی طبی حالات، جیسے سرجری یا بے ہوشی، تک محدود رہی ہے، طاقت کے تنازع کے لیے کبھی استعمال نہیں ہوئی۔
ٹرمپ کی ذہنی صحت پر بحث نئی نہیں۔ ان کی پہلی صدارت کے دوران بھی ان کے فیصلوں اور طرزِ بیان پر سوالات اٹھتے رہے، مگر کبھی یہ بحث عملی کارروائی میں نہیں بدلی۔ موجودہ گفتگو اس لیے مختلف ہے کہ یہ کسی اسکینڈل کے بجائے عمر، ذہنی استحکام اور فیصلہ سازی کے انداز جیسے عوامل کے گرد گھوم رہی ہے۔ اس کے باوجود آئین واضح ہے کہ غیر معمولی رویہ یا سیاسی اختلاف بذاتِ خود نااہلی کی قانونی تعریف نہیں بنتا۔
یہ بحث اس حقیقت کو ضرور نمایاں کرتی ہے کہ امریکی نظام میں سیاسی اختلاف اور حقیقی نااہلی کے درمیان حد غیر معمولی حد تک باریک ہے۔ وائٹ ہاؤس میں صدر کا تعین بیانات سے نہیں، طاقت اور وفاداریوں سے ہوتا ہےاور یہی 25ویں ترمیم کی سب سے بڑی حد ہے۔


