پاکستان ریلوے گینگ مینوں پر بے جا چارجز، سی بی اے کا شدید احتجاج اور تحقیقات کا مطالبہ

سکھر(جانوڈاٹ پی کے)پاکستان ریلوے پریم یونین (CBA) کے مرکزی سیکرٹری جنرل خیر محمد تنیو نے کہا ہے کہ ریلوے کے سب سے زیادہ جانیں دینے والے اور حادثات میں فرسٹ رسپانڈر کا کردار ادا کرنے والے گینگ مین ملازمین کے ساتھ غیر مناسب سلوک کیا گیا ہے۔
خیر محمد تنیو کے مطابق 34 ڈاؤن پاک بزنس ایکسپریس میں ڈیوٹی پاس ہونے کے باوجود ساہیوال کے گینگ مینوں کو چارج کیا گیا، جبکہ یہ ملازمین بغیر کسی سہولت یا وسائل کے پاکستان ریلوے کے ٹریک کو رواں دواں رکھنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چاہے سردی ہو، گرمی ہو، اندھیری رات ہو، طوفان یا سیلاب ہو، یہ ملازمین اپنی جان خطرے میں ڈال کر ادارے کی ترقی اور بحالی کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں۔ اس سخت سرد موسم میں بھی یہ گینگ مین ٹرینوں کے پیہہ کو روان دواں رکھنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
خیر محمد تنیو نے زور دیا کہ یہ مزدور صرف مزدور نہیں بلکہ پاکستان ریلوے کے محافظ اور ٹریک کی زندگی ہیں، جن کی محنت کی وجہ سے ٹرینیں چلتی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ غریب گینگ مینوں کے بچوں کی فلاح و بھلائی کی قیمت پندرہ ہزار روپے کی رسید سے کیسے پوری ہو سکتی ہے، اور یہ کہ ریلوے کا خسارہ یا ادارے کی منافع بخش حیثیت ایسے چارجز سے ختم نہیں ہو جاتی۔
انہوں نے وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی اور ریلوے کے چیئرمین/سی ای او سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ 34 ڈاؤن بزنس ایکسپریس میں چارج کرنے والے ٹی ایم اور عملے کو معطل کر کے واقعے کی انکوائری کرائی جائے۔ بصورت دیگر، ملک بھر میں احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا گیا ہے۔



