سکھر کسٹمز ہاؤس میں کروڑوں روپے کے سمگل شدہ سامان کی نیلامی

سکھر (جانوڈاٹ پی کے) سکھر اسٹیٹ ویئر ہاؤس کسٹمز آفس میں گزشتہ روز مختلف کارروائیوں کے دوران قبضے میں لیے گئے کروڑوں روپے مالیت کے غیر ملکی سامان اور گاڑیوں کی بڑی نیلامی منعقد کی گئی، اس موقع پر حیدرآباد سے آئے ہوئے کلکٹر کسٹمز ناصر حسین خان نے نیلامی کے عمل کی نگرانی کی، جس کا مقصد سرکاری خزانے میں ریونیو جمع کروانا اور سمگلنگ کے خلاف سخت پیغام دینا تھا، نیلامی کی فہرست (لسٹ) کے مطابق انتہائی قیمتی اشیاء بشمول غیر ملکی گاڑیاں (ٹویوٹا پراڈو، لینڈ کروزر، ویٹز، پرائیس)، الیکٹرانک سامان، سولر انوورٹرز، ٹائر، اور بھاری مقدار میں کپڑا نیلامی کے لیے پیش کیا گیا۔ انتظامیہ کی جانب سے نیلامی کے عمل کو انتہائی شفاف اور منظم رکھا گیا تھا، جہاں ہر چیز کی بولی کلکٹر کی موجودگی میں کھلے عام لگائی گئی، نیلامی کے دوران چند اہم سودے درج ذیل قیمتوں پر فائنل ہوئے، گاڑیوں اور مشینری کے پارٹس: (لاٹ نمبر 233/2024) کی بولی تقریباً 14 لاکھ روپے تک گئی، اشیاء خوردونوش و دیگر، چاکلیٹس، دودھ اور دیگر اشیاء کی بڑی لاٹ (439/2025) کی کامیاب بولی 5 لاکھ 90 ہزار روپے لگی، تیل اور کاسمیٹکس، ایرانی تیل اور صابن کی مختلف لاٹس پر بالترتیب 1 لاکھ 10 ہزار اور 1 لاکھ 80 ہزار روپے کی بولیاں موصول ہوئیں، جہاں ایک طرف کسٹمز حکام نیلامی کو "کامیاب” قرار دے رہے ہیں، وہیں ایک اہم پہلو تشویشناک نظر آیا۔ نیلامی کے دوران دیکھا گیا کہ بولی دینے والوں میں زیادہ تر بیرونی شہروں کے بڑے سرمایہ کار اور مخصوص گروپ حاوی رہے، جبکہ سکھر کے مقامی تاجر اور شہری آٹے میں نمک کے برابر نظر آئے۔
یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا کسٹمز کی جانب سے نیلامی کی تشہیر مقامی سطح پر کمزور تھی؟ یا پھر نیلامی کی شرائط اتنی سخت تھیں کہ مقامی چھوٹا تاجر ان بڑے سرمایہ کاروں کا مقابلہ نہ کر سکا؟ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر مقامی لوگوں کو زیادہ سے زیادہ موقع دیا جائے تو اس سے نہ صرف مقامی معیشت کو فائدہ ہوگا بلکہ نیلامی میں مقابلے کی فضا مزید بہتر ہو سکتی ہے، مجموعی طور پر، کلکٹر ناصر حسین خان کی قیادت میں نیلامی کا یہ عمل کسٹمز کی جانب سے سمگلنگ کے خلاف ایک مضبوط مالیاتی ضرب ہے۔ تاہم، کسٹمز حکام کو چاہیے کہ مستقبل میں ایسی نیلامیوں میں مقامی چیمبر آف کامرس اور تاجروں کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کریں تاکہ "بڑے مچھلیوں” کے بجائے عام شہری بھی اس شفاف عمل سے فائدہ اٹھا سکیں


