این آئی سی وی ڈی کو 15.5 ارب روپے کی گرانٹ، ادارے کی قانونی حیثیت بحال

کراچی (جانوڈاٹ پی کے) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے این آئی سی وی ڈی کے آپریشنل امور کے لیے 15.5 ارب روپے کی گرانٹ اِن ایڈ کی منظوری دے دی ہے۔ این آئی سی وی ڈی کا 84 واں گورننگ باڈی اجلاس وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، اراکین اسمبلی، چیف سیکریٹری اور دیگر سیکریٹریز نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر طاہر صغیر نے تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے جن میں این آئی سی وی ڈی کی قانونی حیثیت بحال کرنا، چیف آپریٹنگ آفیسر اور چیف فنانشل آفیسر کی فوری تقرری اور ادارے کے مالی سال 2025-26 کے لیے 3.5 ارب روپے اضافی گرانٹ کی ضرورت کو تسلیم کرنا شامل ہے۔ ادارے کو مجموعی طور پر 4.6 ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے، جو انتظامی اور سروس اخراجات میں اضافے کے باعث پیدا ہوا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ این آئی سی وی ڈی نے 200 سے زائد TAVI پروسیجرز مفت انجام دیے، جبکہ نجی اسپتالوں میں اس کی لاگت تقریباً 40 لاکھ روپے ہے۔ این آئی سی وی ڈی کراچی نے 2024 میں 9,925 پرائمری اینجیو پلاسٹیز کیں اور یہ ادارہ دنیا کا سب سے بڑا پرائمری اینجیو پلاسٹی سینٹر ہے۔ ادارے نے پہلی بار بلوچستان میں بچوں کے دل کے علاج کی سہولت بھی فراہم کی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے لانڈھی میں ذوالفقار علی بھٹو انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیزز کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا، جس کے تحت یہ ادارہ 1,200 بستروں پر مشتمل ہوگا اور دنیا کے سب سے بڑے دل کے اسپتال کے طور پر کام کرے گا۔ این آئی سی وی ڈی اور ایس آئی سی وی ڈی کے انضمام اور انتظامی اصلاحات کے لیے بزنس پلان طلب کر لیا گیا جبکہ کے پی ایم جی (KPMG) کی تقرری کو حتمی شکل دینے کی ہدایت بھی دی گئی۔



