ایران میں فسادات بیرونی مداخلت کا نتیجہ ہیں، امریکا اور اسرائیل ذمہ دار ہیں، پروفیسر جیفری سیکس

نیویارک/واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی کے معروف ماہرِ معیشت اور پروفیسر جیفری سیکس نے ایران میں حالیہ فسادات کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں پیدا ہونے والی صورتحال کسی داخلی ناکامی کا نتیجہ نہیں بلکہ بیرونی مداخلت کا شاخسانہ ہے۔
ایک بیان میں پروفیسر جیفری سیکس کا کہنا تھا کہ ایران میں ایک غیر معمولی، پُرتشدد اور سفاک کھیل کھیلا جا رہا ہے، تاہم امریکی مین اسٹریم میڈیا جان بوجھ کر اس حقیقت کو نظر انداز کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی میڈیا یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ ایرانی حکومت معیشت پر کنٹرول کھو چکی ہے، مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ ایرانی معیشت کو اصل نقصان امریکی معاشی پابندیوں نے پہنچایا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیشہ کی طرح عوام کے سامنے یہ بیانیہ پیش کیا جاتا ہے کہ ایرانی حکومت اپنے عوام پر ظلم کر رہی ہے، جبکہ اصل حقائق چھپائے جا رہے ہیں۔ پروفیسر جیفری سیکس کے مطابق ایران میں عوام کو درپیش مشکلات کی بنیادی وجہ بیرونی دباؤ اور سخت معاشی پابندیاں ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا اور اسرائیل کا اصل مقصد ایرانی عوام کی زندگی کو بدترین بنانا ہے تاکہ ملک میں رجیم چینج کی راہ ہموار کی جا سکے۔
دوسری جانب بین الاقوامی امور کے ماہر اور سینیٹر مشاہد حسین سید نے پروفیسر جیفری سیکس کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے ان کا بیان سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ایران کے حوالے سے مغربی میڈیا اس قدر کمزور، جانبدار اور خریدا ہوا ہو چکا ہے کہ وہ سچ سامنے لانے سے انکار کر رہا ہے۔



