پنجاب حکومت نے اے آئی سیل قائم کر دیا، ڈیٹا اور جدید ٹیکنالوجی کے لیے جامع فریم ورک تیار

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) پنجاب حکومت نے پہلی بار مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے لیے ایک واضح اور جامع ادارہ جاتی فریم ورک قائم کرتے ہوئے خصوصی اے آئی سیل تشکیل دے دیا ہے۔ اس سیل میں اے آئی، ڈیٹا اور سافٹ ویئر ماہرین شامل ہیں، جو گورننس میں بہتری اور فیصلہ سازی میں تکنیکی معاونت فراہم کریں گے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اے آئی کو اب باضابطہ پالیسی کا حصہ بنایا گیا ہے، جس میں اے آئی انجینئرز، ڈیٹا سائنٹسٹس، ڈیٹا انجینئرز اور سافٹ ویئر ماہرین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، سیل میں سلوشن آرکیٹیکٹس، پروگرام منیجرز، ٹیکنیکل لیڈز اور ڈیواپس ماہرین بھی کام کریں گے۔

پنجاب حکومت نے نئے ہارڈویئر خریدنے کے بجائے موجودہ انفراسٹرکچر کی استعداد بڑھانے کو ترجیح دی ہے اور اے آئی منصوبوں کو محکموں کی حقیقی ضروریات کے مطابق ڈیزائن کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ہر منصوبے میں فزیبلٹی، پروٹوٹائپ اور ٹیسٹنگ لازمی ہوگی اور یہ طویل المدتی بنیادوں پر تیار کیے جائیں گے۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اے آئی سیل ان منصوبوں میں تکنیکی معاون کے طور پر کام کرے گا، جبکہ متعلقہ محکموں اور اینڈ یوزرز کو فیصلہ سازی میں مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔ حکومت نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ بغیر ادارہ جاتی ملکیت کے ڈیجیٹل سسٹمز کامیاب نہیں ہو سکتے، اس لیے ہر ماہر کی ذمہ داریاں واضح طور پر طے کی گئی ہیں۔

حکومت کی پالیسی کا مقصد ٹیکنالوجی کو گورننس کی معاون قوت بنانا اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کو سرکاری نظام کا حصہ بنانا ہے، تاکہ ڈیجیٹل منصوبوں میں نتائج اور آؤٹ پٹس کو یقینی بنایا جا سکے۔

مزید خبریں

Back to top button