سکھر: آدم شاہ کالونی میں جمالی برادری کا پولیس اور بااثر افراد کے خلاف احتجاج

سکھر(جانوڈاٹ پی کے)سکھر کی آدم شاہ کالونی کے رہائشی جمالی برادری سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین نے اپنے معصوم بچوں کے ہمراہ علاقے کے بااثر افراد اور سی سیکشن تھانے کے ایس ایچ او کے مبینہ ظلم و زیادتیوں اور ناانصافی کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔احتجاج میں شامل مائی مریم، عبدالرشید جمالی، جہانزیب جمالی، مائی مقصوداں، نصیر جمالی و دیگر کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات ان کی برادری کے بااثر افراد نے اچانک ان کے گھروں پر دھاوا بول دیا،جس کے نتیجے میں ان کے تین افراد شدید زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کی رپورٹ درج کروانے کے لیے وہ اے سیکشن تھانے پہنچے، جہاں پولیس نے انہیں میڈیکل کروانے کے لیے سول اسپتال بھیج دیا۔
مظاہرین کے مطابق جب وہ سول اسپتال پہنچے تو وہاں الادوں جمالی، اصغر جمالی، اللہ دتہ اور اس کے بیٹوں نے ان پر دوبارہ حملہ کر دیا اور زخمیوں کا میڈیکل پرچہ پھاڑ کر پھینک دیا۔ اسپتال میں موجود افراد نے مداخلت کر کے جھگڑا ختم کروایا اور انہیں گھروں کو واپس بھیج دیا۔احتجاج کرنے والوں نے الزام عائد کیا کہ وہ ابھی گھروں تک ہی پہنچے تھے کہ سی سیکشن تھانے کے ایس ایچ او حمید مہر چھ پولیس اہلکاروں کے ہمراہ ان کے گھروں میں داخل ہو گئے اور چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے گھر میں موجود خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ مظاہرین کے مطابق پولیس نے ان کے بھائی علی جان جمالی، جو پہلے ہی دل کے مریض ہیں، کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب وہ علی جان جمالی کے بارے میں معلومات لینے کے لیے سی سیکشن تھانے پہنچے تو پولیس اہلکاروں نے انہیں ملوانے سے انکار کر دیا اور دھکے دے کر تھانے سے باہر نکال دیا۔جمالی برادری کے مظاہرین نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ علی جان جمالی کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور واقعے کی صاف و شفاف انکوائری کر کے ملوث بااثر افراد، پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔



