کراچی میں آٹے کا بحران برقرار، سرکاری گندم کی ترسیل میں تاخیر سے قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ

کراچی(جانوڈاٹ پی کے) کراچی میں گندم اور آٹے کی قیمتوں کا بحران بدستور جاری ہے، جبکہ سرکاری گندم کی بروقت ترسیل نہ ہونے کے باعث آٹے کے نرخ مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالجنید کا کہنا ہے کہ سرکاری گندم غذائیت کے لحاظ سے معیاری نہیں، جسے نئی گندم کے ساتھ ملا کر آٹا تیار کیا جا رہا ہے، تاہم یہ آٹا قیمت کے اعتبار سے عوام کی دسترس سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے فلور ملوں کو سرکاری گندم کی ترسیل میں تاخیر کے باعث کراچی میں آٹے کی قیمتوں پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
عبدالجنید نے بتایا کہ کراچی کی تھوک اور خوردہ مارکیٹوں میں آٹا مزید مہنگا ہونے کے خدشات پیدا ہو چکے ہیں، جبکہ سرکاری گندم کی تاخیر سے ترسیل کے معاملے پر کمشنر کراچی کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گندم کی بروقت سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے ڈی آئی جی ٹریفک سے بھی اہم ملاقات کی گئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پرانی سرکاری گندم 80 روپے فی کلوگرام جبکہ نئی شامل کی جانے والی گندم 110 روپے فی کلوگرام میں پڑ رہی ہے، جس کے باعث تھوک مارکیٹ میں آٹے کی قیمتوں میں کمی ممکن نہیں رہی اور ریٹس خودساختہ انداز میں بڑھ رہے ہیں۔
دوسری جانب ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین رؤف ابراہیم کا کہنا ہے کہ اگرچہ کمشنر کراچی آئندہ ایک دو روز میں آٹے کی نئی سرکاری قیمتوں کی فہرست جاری کریں گے، تاہم اوپن مارکیٹ میں گزشتہ چار ماہ کے دوران آٹے کی قیمت 55 روپے فی کلوگرام سے بڑھ کر 110 روپے فی کلوگرام تک پہنچ چکی ہے۔
رؤف ابراہیم کے مطابق سندھ کی گندم خیبرپختونخوا اور بلوچستان منتقل ہو رہی ہے، جس کے باعث طلب میں اضافے کی صورت میں اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت 110 سے بڑھ کر 125 روپے فی کلوگرام تک جا سکتی ہے، جبکہ کراچی میں فائن آٹے کی قیمت 145 روپے فی کلوگرام تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔



