موسلا دھار بارشوں نے افریقی ممالک میں قیامت ڈھا دی، لاکھوں افراد بے گھر،100سے زائد ہلاکتیں

زمبابوے(جانوڈاٹ پی کے)براعظم افریقا کے تین بڑے ممالک میں ہونے والی شدید موسلا دھار بارشوں اور تباہ کن سیلاب سے معمولات زندگی ٹھپ ہوکر رہ گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ ہفتے سے جاری طوفانی بارشوں سے جنوبی افریقا، موزمبیق اور زمبابوے میں دریاؤں میں طغیانی آگئی۔
دریا ابل پڑے اور سیلابی ریلے نے رہائشی علاقوں میں داخل ہوکر ہر چیز کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ لاکھوں افراد بے گھر ہو کر نقل مکانی پر مجبور ہیں۔
سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر رہی ہیں، پل پانی کے ریلے میں بہہ گئے۔ ٹرانسپورٹ اور بجلی کا نظام معطل ہوگیا۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید شدید موسم اور تباہی کا خدشہ برقرار ہے۔
امدادی کاموں کے لیے فوجی ہیلی کاپٹرز کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کو بلاضرورت گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
جنوبی افریقا کے شمالی صوبوں لیمپوپو اور امپومالانگا میں سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
سیلابی پانی کے باعث زمبابوے سے ملحقہ سرحدی چیک پوسٹ پر تعینات سیکیورٹی اہلکاروں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔
جنوبی افریقا کے پڑوسی ملک زمبابوے میں بھی قدرتی آفات نے تباہی مچادی جس میں اب تک کم از کم 70 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
زمبابوے میں سیلاب کے باعث ایک ہزار سے زائد گھر تباہ، جب کہ اسکول، سڑکیں اور پل منہدم ہو گئے ہیں۔
موزمبیق میں بھی سیلاب سے حالات مختلف نہیں ہیں جہاں ہلاکتوں کی تعداد 20 سے زائد ہیں جب کہ مختلف شہروں میں وبائی امراض پھوٹ پڑے ہیں۔
ورلڈ فوڈ پروگرام کے بقول ان تین ممالک میں دو لاکھ سے زائد افراد متاثر، ہزاروں مکانات تباہ اور 70 ہزار ہیکٹر سے زائد زرعی زمین زیرِ آب آ چکی ہیں۔
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اس صورتحال سے خوراک کی قلت مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، خاص طور پر ان چھوٹے کسانوں کے لیے جو پہلے ہی غربت اور بار بار آنے والے سمندری طوفانوں سے متاثر ہیں۔



