سکھر میں منشیات فروش اور جواری بلا خوف و خطر سرگرم، پولیس خاموش تماشائی، شہری شدید تشویش میں مبتلا

سکھر (جانوڈاٹ پی کے) سکھر میں منشیات اور جوئے کا بڑھتا ہوا جال، نوجوان نسل تباہی کے دہانے پر، سکھر شہر کے مختلف علاقوں میں منشیات اور غیر قانونی جوئے کے بڑھتے ہوئے رجحان نے شہریوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق نیو پنڈ پولیس اسٹیشن اور نیو پنڈ پولیس چوکی جبکہ سی سیکشن پولیس اسٹیشن اور نمائش پولیس چوکی کی حدود میں مبینہ طور پر شراب، چرس، نشہ آور سپاری، اکڑا پرچی کے جوئے اور تاش کے جوئے کے اڈے کھلے عام چل رہے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ان غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث علاقے کی نوجوان نسل تیزی سے بربادی کی طرف جا رہی ہے، مگر متعلقہ پولیس اہلکار مبینہ طور پر کارروائی کرنے کے بجائے رشوت لینے میں مصروف ہیں۔ ذرائع کے مطابق منشیات فروش اور جواری بلا خوف و خطر اپنا کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔علاقہ مکینوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ متعدد بار شکایات کے باوجود نہ تو پولیس کی جانب سے مؤثر کارروائی کی گئی اور نہ ہی ضلعی انتظامیہ نے اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیا، جس کے باعث عوام میں شدید بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس پایا جاتا ہے۔شہری حلقوں اور سماجی رہنماؤں نے آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو، ڈی آئی جی سکھر ناصر آفتاب، جسٹس ہائی کورٹ سکھر، کمشنر سکھر اور ڈپٹی کمشنر سکھر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے منشیات اور جوئے کے خلاف سخت کارروائی کریں، ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور نوجوان نسل کے مستقبل کو محفوظ بنایا جائے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اور بلا امتیاز کارروائی نہ کی گئی تو یہ ناسور پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے، جس کے نتائج معاشرے کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہوں گے۔

مزید خبریں

Back to top button