بدین: پولیس چوکی انچارج پر خاتون کو ہراساں کرنے اور جھوٹے مقدمات کا الزام، آئی جی سندھ سے نوٹس لینے کا مطالبہ

بدین (رپورٹ: مرتضیٰ میمن / جانو ڈاٹ پی کے) بدین کے علاقے حیات خاصخیلی کی رہائشی مسماۃ سکینہ جروار نے پولیس چوکی حیات خاصخیلی کے انچارج ہارون تھیبو پر مبینہ ظلم، ہراسانی اور جھوٹے مقدمات درج کرنے کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے اپنے شوہر محرم جروار اور دیور رجب جروار کے ہمراہ صحافیوں کے سامنے احتجاج کیا اور آئی جی سندھ سے فوری انصاف کی اپیل کی ہے۔
مسماۃ سکینہ جروار نے بتایا کہ وہ ایک غریب مزدور گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور محنت مزدوری کرکے گزر بسر کرتے ہیں، تاہم کچھ عرصے سے پولیس پوسٹ انچارج ہارون تھیبو مبینہ طور پر انہیں ناجائز تعلقات قائم کرنے کے لیے ہراساں کر رہا تھا۔ خاتون کے مطابق جب اس نے یہ معاملہ اپنے شوہر اور دیور کو بتایا تو دونوں نے پولیس چوکی جا کر انچارج سے شرافت اور عزت کے ساتھ بات کی اور ہراساں نہ کرنے کی درخواست کی۔
خاتون کا کہنا ہے کہ اس پر انچارج ہارون تھیبو طیش میں آ گیا اور ان کے شوہر و دیور کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے کر چوکی سے نکال دیا۔ ان کے مطابق چند روز بعد دیور رجب جروار کے خلاف مبینہ طور پر جھوٹی شراب کی ایف آئی آر درج کر کے اسے جیل بھیج دیا گیا، جس کی بڑی مشکل سے ضمانت کرائی گئی۔
مسماۃ سکینہ نے الزام لگایا کہ بعد ازاں انچارج پولیس اہلکاروں اور موبائل کے ہمراہ رات گئے ان کے گھر پہنچا، گھر میں داخل ہو کر ان کے شوہر محرم جروار کو تشدد کا نشانہ بنایا اور تھانے لے جا کر اس پر منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا گیا۔
خاتون کے مطابق پولیس نے ان کے گھر سے دو لاکھ روپے نقدی، جو بیلوں کی ایک جوڑی فروخت کرنے کے بعد رکھی گئی تھی، قبضے میں لے لی مگر ایف آئی آر میں اس کا ذکر نہیں کیا گیا، جبکہ ان کی موٹر سائیکل کو بھی جھوٹے مقدمے میں شامل کر دیا گیا۔
سکینہ جروار کا کہنا ہے کہ انہوں نے انصاف کے لیے ایس ایس پی بدین کو تحریری درخواست دی اور بدین کی عدالت میں بھی وکیل کے ذریعے درخواست دائر کی ہے، مگر الزام ہے کہ پولیس انچارج نے چند گاؤں والوں سے زبردستی جھوٹے بیانات لے کر ان پر قحبہ خانہ چلانے جیسے سنگین الزامات عائد کر دیے، تاکہ وہ اپنی شکایات واپس لینے پر مجبور ہو جائیں۔
متاثرہ خاندان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر درخواستیں واپس نہ لی گئیں تو مزید جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے آئی جی سندھ اور ایس ایس پی بدین سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لے کر شفاف انکوائری کرائی جائے اور پولیس چوکی حیات خاصخیلی کے انچارج کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔



