میری آنکھیں انصاف کی منتظر ہیں!

ڈاکٹر اُمِ رباب چانڈیو

دنیا کے اس جہاں میں دکھ اور تکلیف زندگی کا حصہ ہیں جیسے خوشیاں اور راحتیں بھی حیات کا حصہ ہوتی ہیں دنیا کی مثال ایک دریا کی سی ہے اور زندگی گویا ایک کشتی جس میں ہم دکھ سکھ کا سامان لیے سفر کرتے رہتے ہیں یہ سب معمول کا حصہ ہے مگر کبھی کبھی زندگی میں ایسے زخم، صدمے اور سانحات پیش آتے ہیں کہ انسان کی تمام خوشیاں چھن جاتی ہیں ایسی کیفیت میں انسان کو سب سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب پورا معاشرہ بے حس ہو جائے اور نظام خود زخموں پر نمک چھڑکنے لگے بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کی صورتحال بھی کچھ ایسی ہی ہے جہاں کمزور پستا رہتا ہے اور طاقتور،ظالم،وحشی، قاتل اور جلاد پوری رعونت اور غرور کے ساتھ ظلم کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں ایسی حالت میں ہر حساس دل رکھنے والا انسان تڑپ اٹھتا ہے اور انہی میں قوم کی یہ مظلوم بیٹی بھی شامل ہے حقیقت یہ ہے کہ 15 جنوری میرے شہید والد کا یومِ پیدائش ہوتا ہے جس کی خوشی میں ہم اور ہمارے تمام اہلِ خانہ مصروف تھے مگر 17 جنوری 2018ء کو نہ صرف میرے والد (جو سرداری نظام کے خلاف جدوجہد کرنے والے نوابوں اور وڈیروں کی غلامی میں جکڑے عوام کو آزادی دلانے کی کوشش کرنے والے ایک بہادر انسان تھے بلکہ اسی مشن میں ان کے ساتھ کھڑے میرے چچا اور دادا صاحب کو بھی بے دردی سے گولیوں کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا گیا اس کے بعد گویا ہمارا خاندان ہر لمحہ ایک قیامت سے گزر رہا ہے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے مجھے انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تقریباً آٹھ سال گزرنے کے باوجود ایک مظلوم سندھی بیٹی کی حیثیت سے میں انصاف کے حصول کے لیے گزشتہ آٹھ برسوں سے مسلسل عدالتوں کے چکر کاٹ رہی ہوں انصاف کی اس طویل جدوجہد میں میرا ایمان ہے کہ ایک دن میرا رب اپنی رحمت اور کرم سے، معزز جج صاحبان کے دلوں میں یہ نیک خیال ضرور پیدا کرے گا کہ ایک مظلوم بیٹی کے ساتھ ہونے والے اس ہولناک ظلم کا بدلہ لے کر انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں پروردگارِ عالم ضرور ان ظالم سرداروں،وڈیروں اور خود کو زمینی خدا سمجھنے والوں کو عبرتناک انجام تک پہنچائے گا جو سندھ اور سندھی عوام کے لیے ناسور بن چکے ہیں اور باشعور عوام کی خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ ہیں ایسے فرعونی ذہنیت کے حامل عناصر کا احتساب ہوگا جس سے نہ صرف عدالتوں کو نئی طاقت ملے گی بلکہ عوام کا عدلیہ پر اعتماد بھی بحال ہوگا اور بالخصوص سندھ میں سرداری اور وڈیرا شاہی نظام کے خلاف اٹھنے والی بغاوت کا پرچم سربلند ہوگا لیکن معزز جج صاحبان آخر وہ کون سی وجہ ہے کہ ایک مظلوم بیٹی کو انصاف دینے میں اتنی تاخیر کی جا رہی ہے جبکہ انصاف میں تاخیر انصاف کے قتل کے مترادف ہوتی ہے آخر قانون ظالم قاتل درندوں کو کیوں نہیں پکڑتا مظلوموں کے دلوں کے درد کا احساس کیوں نہیں کیا جاتا مظلوم کو کب تک انصاف کی آس میں رلایا جائے گا کب تک جذبات سے کھیلا جاتا رہے گا یہ بات ذہن نشین رکھیں کہ جس انسان پر جتنا زیادہ ظلم اور مصیبت ڈالی جاتی ہے وہ اتنا ہی مضبوط اور جری بن کر ابھرتا ہے وقت کے یزیدو یاد رکھو میں مسلسل جدوجہد پر یقین رکھتی ہوں ظالم اور جابر نظام کے خلاف میدان میں ڈٹے رہنے کو میں راہِ حسینی سمجھتی ہوں ان شاء اللہ نہ جھکوں گی نہ تھکوں گی اور نہ ہی پیچھے ہٹوں گی اپنے حق اور انصاف کے حصول کے لیے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جدوجہد جاری رکھوں گی مجھے اپنے ربِ ذوالجلال پر کامل یقین ہے کہ وہ قاضی کے قلم میں ایسی طاقت عطا فرمائے گا اور اس کے دل میں اپنی رحمت پیدا کرے گا کہ بالآخر فتح حق اور سچ کی ہی ہوگی ظلم جبر اور ان کے ساتھی ذلیل و رسوا ہوں گے اور وہ دن اب زیادہ دور نہیں آخر میں اتنا ضرور کہوں گی کہ ایک عدالت جج صاحب کی ہوتی ہے اور وہ ریاست کی عدالت ہے جہاں سے مجھے انصاف کی امید ہے دوسری عدالت عوام کی ہے جسے خلقِ خدا کی عدالت کہا جاتا ہے اور وہاں سے بھی مجھے مکمل حق اور انصاف کی توقع ہے سب سے بڑی عدالت اللہ تعالیٰ کی ہے جہاں ناانصافی کا کوئی تصور نہیں بے شک ظالموں کو مہلت دی جاتی ہے مگر ہر نمرود،یزید،فرعون اور شمر کی گرفت ضرور ہوتی ہے بے شک اللہ سب سے بہتر انصاف کرنے والا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button