وزیرآباد کو میونسپل کمیٹی کی بجائے میونسپل کارپوریشن کا درجہ دیا جائے: فیاض چٹھہ، خالد مغل، باور بشیر

وزیرآباد(جانوڈاٹ پی کے)سابق سٹی ڈسٹرکٹ ناظم گوجرانوالہ محمد فیاض چٹھہ اور سابق ناظمین یونین کونسل ضلع وزیرآباد محمد خالد مغل اور  سیٹھ باور بشیر نے پنجاب لوکل گورنمنٹ بل 2025 آئینِ پاکستان اور اعلیٰ عدلیہ کے طے شدہ اصولوں کی روشنی میں پُرزور مطالبہ کیا ہں ے کہ وزیرآباد کو میونسپل کمیٹی کی بجائے میونسپل کارپوریشن کا درجہ دیا جائے کیونکہ ضلع بننے کے بعد شہری آبادی کا حقیقی حجم تیز رفتار شہری پھیلاؤ اور متصل اربن علاقوں سوہدرہ تلواڑہ اور دھونکل کو نظرانداز کرنا صریحاً قانونی اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی ہں ے  انہوں نے کہا کہ بل 2025 کے تحت حد بندی اور درجہ بندی محض انتظامی صوابدید نہیں بلکہ ایک لازمی قانونی فریضہ ہے، جس میں لفظ“shall”کا استعمال حکومت اور لوکل گورنمنٹ کمیشن کو پابند بناتا ہں ے کہ وہ زمینی حقائق کے مطابق فیصلے کریں محمد فیاض چٹھہ کے مطابق جب مربوط اربن آبادی دو لاکھ سے تجاوز کر جائے تو میونسپل کارپوریشن کا نوٹیفکیشن اختیار نہیں بلکہ قانوناً ناگزیر تقاضا بن جاتا ہں ے اور اس کے برعکس فیصلہ انتظامی بدنیتی کے زمرے میں آ سکتا ہں ے نہوں نے واضح کیا کہ لوکل گورنمنٹ کمیشن اعتراضات پر اسپیکنگ آرڈر دینے معروضی وجوہات تحریر کرنے اور عوامی مفاد کو مقدم رکھنے کا پابند ہں ے جبکہ زمینی حقائق کو نظرانداز کرنا عدالتی نظرِ ثانی اور آئینی مداخلت کو دعوت دینے کے مترادف ہں وگا ان کا کہنا تھا کہ میونسپل کارپوریشن کا قیام بہتر شہری سہولیات مؤثر ٹاؤن پلاننگ مالی خودمختاری اور آئین کے آرٹیکل 140-A کی حقیقی روح سے ہم آہنگ ہں ے لہٰذا حکومتِ پنجاب کو چاہیے کہ دانشمندی اور ریاستی تسلسل کے تقاضوں کے مطابق فیصلہ کرتے ہں وئے وزیرآباد کو اس کے جائز اور آئینی شہری مقام پر فائز کرے۔

مزید خبریں

Back to top button