خلیجی ممالک کی کوشش رنگ لے آئیں: ٹرمپ نےایران پرحملے کا فیصلہ آخری لمحوں میں تبدیل کیا،برطانوی اخبار

لندن(جانوڈاٹ پی کے)برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے دعویٰ کیا ہےکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کا فیصلہ آخری لمحوں میں تبدیل کیا۔
دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق یہ تبدیلی خلیجی ملکوں کی سفارتی کوششوں کے باعث عمل میں آئی۔ سعودی عرب، قطر اور عمان نے واشنگٹن سے ہنگامی مذاکرات کیے اور ٹرمپ کو فوجی کارروائی مؤخر کرنے پر یہ کہہ کر آمادہ کیا کہ تہران کو اپنے ‘اچھے عمل’ کا مظاہرہ کرنےکا موقع دینا چاہیے۔
اس سے قبل ٹرمپ نے ایرانی مظاہرین سے کہا تھا کہ ‘مدد آرہی ہے’۔ بدھ کو رات گئے ٹرمپ یہ کہہ کر یقینی حملے کے فیصلے سے پیچھے ہٹے کہ ایران میں ہلاکتیں رک رہی ہیں۔
ٹرمپ کے اس فیصلے سے ذرا پہلے ہی ایران نے احتجاج کرنے والوں کو پھانسی دینے کا فیصلہ روک دیا تھا۔
ایک سینئر سعودی آفیشل نے خبر ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ خلیجی ملکوں نے طویل اور تھکادینے والی آخری لمحات میں کی گئی سفارتی کوششوں سے صدر ٹرمپ کو قائل کیا کہ ایران کو ایک موقع اور دیا جائے۔
ان ملکوں نے یہ انتباہ بھی کیا تھا کہ حملے کے خطے میں نتائج بھیانک ہوسکتے ہیں۔ سعودی آفیشل نے کہا کہ یہ بموں کو ڈی فیوز کرنے کے لیےکوششیں کرنےکی ایک بے خوابی والی رات تھی۔
اخبار کے مطابق ترکیے اور مصر نے بھی ٹرمپ سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی تھی اور ساتھ ہی خبردار کیا تھا کہ ایران پر امریکی حملے کے ایران کے پڑوسی ملکوں پر اثرات برے پڑیں گے اور تیل و گیس کی عالمی قیمتوں پر بھی منفی اثر پڑےگا۔
دی ٹیلی گراف کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی نیشنل سکیورٹی ٹیم سے کہا ہےکہ وہ ایران پر حملہ صرف اس صورت میں کریں گے جب اس کے ایرانی رجیم پر فیصلہ کن اثرات مرتب ہوں۔
دوسری جانب امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے کہا ہےکہ لوگ ابھی دیکھتے رہیں، ایران پر امریکی حملے کی بات ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔
دیگر عالمی ذرائع ابلاغ بھی یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایران پر امریکی حملے کا خطرہ برقرار ہے، پینٹاگون نے کروز میزائلوں، جنگی بحری جہازوں اور لڑاکا طیاروں سے لیس بحری بیڑہ مشرق وسطیٰ روانہ کردیا ہے جو ایک ہفتے میں پہنچےگا۔
امریکی اور برطانوی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ مختصر اور فیصلہ کن کارروائی چاہتے ہیں ، حملوں میں ایرانی پاس داران انقلاب، بسیج فورس اور پولیس کو کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔



