صحت بجٹ 2.9 فیصد سے بڑھا کر10فیصدکردیا،پیپلز پارٹی کے نزدیک صحت کوئی مراعت نہیں بلکہ بنیادی حق ہے،بلاول بھٹو

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) حکومتِ سندھ کے محکمہ اطلاعات کے زیرِ اہتمام ایوانِ صدر میں ایک تفصیلی بریفنگ کا انعقاد کیا گیا۔یہ بریفنگ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے دی۔ اس موقع پر مختلف ممالک کے سفیروں اور سفارتی عملے، پاکستان بھر سے تعلق رکھنے والے کاروباری برادری کے نمائندوں اور اسلام آباد کے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے نامور صحافیوں نے شرکت کی۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شرکاء کو “سندھ کی تبدیلی کی کہانی” سے آگاہ کیا۔ بریفنگ میں صحت، تعلیم، موسمیاتی تبدیلی و پانی، امن و امان، سماجی تحفظ، معیشت، توانائی اور نقل و حرکت سمیت مختلف شعبوں میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو تفصیل سے پیش کیا گیا۔ بریفنگ میں 2008 سے 2025 تک کے عرصے کا احاطہ کیا گیا، جب پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ میں حکومت بنائی۔ اس دوران مختلف شعبوں کی ابتدائی صورتحال، حاصل ہونے والی پیش رفت اور مستقبل کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالی گئی۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ صحت کے بجٹ کو 2.9 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کر دیا گیا، کیونکہ پیپلز پارٹی کے نزدیک صحت کوئی مراعت نہیں بلکہ بنیادی حق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2008 میں جب پیپلز پارٹی نے اقتدار سنبھالا تو جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (JPMC) میں 1,100 بستروں کی گنجائش تھی، جو پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران بتدریج بڑھ کر 2,028 بستر ہو چکی ہے۔ جے پی ایم سی میں اب تین سائبر نائف سہولیات موجود ہیں جہاں مفت علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ اب تک 178 شہروں اور 24 ممالک کے مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے، جن میں سندھ کے مریض 50 فیصد سے بھی کم ہیں، جبکہ 31 فیصد پنجاب، 11 فیصد خیبر پختونخوا، 7 فیصد بلوچستان اور 5 فیصد دیگر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ مزید برآں 600 بستروں پر مشتمل 12 منزلہ نئی عمارت زیرِ تکمیل ہے، اور 2028 تک جے پی ایم سی کی مجموعی گنجائش 3,200 بستر ہو جائے گی۔

این آئی سی وی ڈی اور ایس آئی سی وی ڈی نے اپنے قیام کے بعد اب تک 29 لاکھ مریضوں کا علاج کیا ہے، جو دنیا کا سب سے بڑا پرائمری کارڈیالوجی پروگرام ہے۔ اس وقت سندھ بھر میں 11 اسپتال اور 30 چیسٹ پین یونٹس قائم ہیں۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ (NICH) میں بستروں کی تعداد 3,400 سے بڑھا کر 5,750 کر دی گئی ہے، جو دنیا میں کسی ایک اسپتال میں بستروں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ ایس آئی یو ٹی نے اب تک 7,700 گردوں کی پیوندکاری کی ہے اور 45 لاکھ مریضوں کا علاج کیا ہے، جس سے مجموعی طور پر 3 کروڑ 50 لاکھ افراد مستفید ہوئے، وہ بھی مکمل طور پر مفت۔ غلام محمد مہر انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (GIMS) میں 2016 سے جگر کی پیوندکاری کی جا رہی ہے، اور اب تک 1,362 پیوندکاریاں کی جا چکی ہیں۔ ان مریضوں میں سے صرف 47 فیصد سندھ سے، جبکہ 35 فیصد پنجاب، 15 فیصد بلوچستان اور 4 فیصد خیبر پختونخوا سے تعلق رکھتے تھے۔ بنیادی صحت کے شعبے میں چائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے اشتراک سے ایک لاکھ پچھتر ہزار مریضوں کا علاج کیا گیا۔ ان اقدامات کے نتیجے میں سندھ میں اموات کی شرح 2.9 فیصد ہے جو پاکستان میں سب سے کم اور قومی اوسط سے بھی کم ہے، جبکہ مجموعی طور پر اس میں 26 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

تعلیم کے شعبے پر بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی نے بتایا کہ 1947 سے 2008 تک سندھ میں صرف دس جامعات اور دو کیمپس تھے، جبکہ 2025 تک یہ تعداد بڑھ کر 30 جامعات اور 18 کیمپس ہو چکی ہے۔ انہوں نے آگاہ کیا کہ طالب علم اور اساتذہ کا تناسب جو 2008 میں 50:1 تھا، اب کم ہو کر 35:1 رہ گیا ہے۔ اس کے علاوہ 129 نئے کالج قائم کیے گئے۔ سندھ حکومت ہر سال 4,000 میرٹ پر مبنی وظائف فراہم کرتی ہے اور 10 آٹزم مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مزید بتایا کہ سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن (SRSO) کے تحت 14 لاکھ خواتین کو غربت سے نکالا گیا ہے۔ خواتین کو بلا سود قرضے فراہم کیے گئے جن کی وصولی کی شرح 98 فیصد ہے۔

2022 کے سیلاب کے دوران سندھ کے 70 فیصد سے زائد علاقے زیرِ آب آ گئے تھے اور 21 لاکھ مکانات تباہ ہو گئے تھے۔ سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز (SPHF) کے تحت سندھ حکومت نے 21 لاکھ مکانات کی تعمیر کا آغاز کیا جو دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ منصوبہ ہے۔ یہ مکانات موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ ہیں اور اب تک0,000 75 مکانات مکمل کیے جا چکے ہیں۔ اس منصوبے سے 10 لاکھ افراد کو روزگار فراہم ہوا۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ان مکانات کی ملکیت خواتین کے نام پر دی جا رہی ہے، جو خواتین کے لیے دنیا کا سب سے بڑا اثاثہ ملکیتی منصوبہ ہے۔

زرعی شعبے میں سندھ حکومت نے بینظیر ہاری کارڈ کے ذریعے ایک لاکھ اٹھانوے ہزار مستفید ہونے والوں میں 21 ارب روپے تقسیم کیے۔ اس کے علاوہ 4,110 کلومیٹر نہروں کی پختگی کی گئی اور 57 ہزار کلومیٹر سڑکیں تعمیر کی گئیں۔ سندھ حکومت نے دریائے سندھ پر سب سے بڑا پل بھی تعمیر کیا۔ پاکستان میں پہلی بار الیکٹرک بسیں اور پنک بسیں متعارف کرائی گئیں، جبکہ خواتین اور بچیوں کے لیے پنک اسکوٹی منصوبہ بھی شروع کیا گیا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ توانائی ملک کے بڑے مسائل میں سے ایک ہے اور سندھ حکومت اپنے ونڈ انرجی پروگرام کے تحت 1,845 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہی ہے۔ 2 لاکھ خاندانوں کو سولر توانائی یونٹس فراہم کیے جا چکے ہیں جبکہ اگلے مرحلے میں مزید 2 لاکھ 75 ہزار یونٹس فراہم کیے جائیں گے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کراچی کے لیے مزید تین سولر منصوبے زیرِ تکمیل ہیں۔ خصوصی اقتصادی زونز قائم کیے گئے ہیں اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے متعدد منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا تصور پہلی بار شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے پیپلز پارٹی کے 1993 کے انتخابی منشور میں پیش کیا تھا۔ سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی اس ماڈل کی ایک نمایاں مثال ہے۔ تھر کول منصوبے سے 3,000 ملازمتیں پیدا ہوئیں جن میں سے 71 فیصد مقامی آبادی کو دی گئیں اور پہلی بار خواتین ٹرک ڈرائیورز کو بھی اس منصوبے میں کام کرتے دیکھا گیا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ جب وفاقی حکومت نے ابتدا میں سندھ سے سروسز پر سیلز ٹیکس وصولی کی ذمہ داری دی تو یہ رقم 16.6 ارب روپے تھی، جسے سندھ حکومت نے ایک سال کے اندر بڑھا کر 28 ارب روپے کر دیا۔ آج سندھ 307 ارب روپے سیلز ٹیکس جمع کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ این ایف سی کے تحت صوبوں کے حصے میں کٹوتی سے مالی مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ ٹیکس وصولی کے اختیارات صوبوں کو منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔ ریکارڈ پر ہے کہ سیلز ٹیکس وصولی میں سندھ کی کارکردگی سب سے بہتر رہی ہے۔ دیگر صوبوں نے بھی اس حوالے سے وفاقی حکومت سے بہتر کارکردگی دکھائی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ٹیکس وصولی میں صوبے زیادہ مئوثر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبوں کو اس بات کی ترغیب دی جانی چاہیے کہ وہ مقررہ اہداف سے زائد جمع ہونے والی ٹیکس آمدن اپنے پاس رکھ سکیں۔

مزید خبریں

Back to top button