ماضی سے توبہ، حال میں انصاف کی اپیل: الطاف حسین کھوسو کا پولیس پر ہراسانی کا الزام

سکھر (جانوڈاٹ پی کے)سکھر کے گاؤں حاجی بلاول خان کھوسو کے رہائشی الطاف حسین کھوسو نے اپنے معصوم بچوں کے ہمراہ سکھر پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ سماجی برائیوں خصوصاً منشیات فروشی جیسی لعنت سے مکمل طور پر توبہ کر چکا ہے اور اب ایک باعزت، پُرامن اور قانون پسند شہری کی حیثیت سے زندگی گزارنا چاہتا ہے۔

الطاف حسین کھوسو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ماضی میں اس سے سنگین غلطیاں سرزد ہوئیں، تاہم وہ کافی عرصہ قبل ان تمام غیرقانونی سرگرمیوں کو خیرباد کہہ چکا ہے، جس کی تصدیق اس کے گاؤں اور آس پاس کے مکین بھی کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود پولیس بار بار اسے منشیات فروشی کے جھوٹے مقدمات میں گرفتار کر کے ہراساں کر رہی ہے، جس سے نہ صرف اس کی زندگی بلکہ اس کے بچوں کا مستقبل بھی شدید متاثر ہو رہا ہے۔

انہوں نے قرآن پاک اور اپنے بچوں کا واسطہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ خلوصِ نیت سے اصلاح کی راہ پر گامزن ہے اور آئندہ کسی صورت ماضی کی طرف واپس نہیں جائے گا۔ الطاف حسین کھوسو کے مطابق اس کا واحد مقصد اپنے بچوں کو بہتر تعلیم، محفوظ ماحول اور روشن مستقبل فراہم کرنا ہے۔

پریس کانفرنس میں انہوں نے واضح اعلان کیا کہ آج کے بعد ان کا کسی ایسے عزیز، بھائی یا رشتہ دار سے کوئی تعلق نہیں رہے گا جو منشیات فروشی یا کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہو۔

الطاف حسین کھوسو نے وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سے اپیل کی کہ ان کے خلاف غیر جانبدار اور شفاف انکوائری کرائی جائے اور مقامی آبادی سے حقائق معلوم کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ کسی جرم میں ملوث ثابت ہوں تو قانون کے مطابق سزا دی جائے، بصورت دیگر انہیں اور ان کے بچوں کو باعزت زندگی گزارنے کا حق دیا جائے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ سائیٹ ایریا پولیس سمیت متعلقہ پولیس افسران کو ہدایات جاری کی جائیں تاکہ آئندہ انہیں اور ان کے اہلِ خانہ کو بلاجواز ہراساں نہ کیا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button