پنجاب کے عوام کی صحت ٹھیکیدار کے حوالے

لاہور(جانو ڈاٹ پی کے)پنجاب میں عوامی صحت کے نظام سے متعلق ایک اہم اور تشویشناک پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں صوبے بھر کے ہزاروں بنیادی مراکزِ صحت (بی ایچ یوز) کو نجی شعبے کے حوالے کر دیا گیا ہے اور اب یہ مراکز “مریم نواز کلینک” کے نام سے چلائے جا رہے ہیں، جبکہ سال 2026 کے دوران بڑے سرکاری اسپتالوں کو بھی نجی شعبے کے سپرد کرنے کا منصوبہ زیرِ غور ہے۔
یہ انکشافات سینئر کالم نویس بلال غوری نے اپنے کالم میں کئے ہیں جس میں مزید بتایا گیا ہے کہ رواں برس ’’کلینک آن ویلز‘‘ منصوبے کی بساط لپیٹنے کا بھی فیصلہ کرلیا گیا۔971کلینک آن ویلز، 590دیہی ایمبولینسوں اور111فیلڈ موبائل ہیلتھ یونٹس کو نجی شعبہ کے حوالے کرنے کیلئے درخواستیں طلب کرلی گئی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر حکومت اس منصوبے کو چلا نہیں سکتی تھی تو پھر شروع ہی کیوں کیا تھا؟بنیادی مراکز صحت کے حوالے سے پنجاب حکومت کا اصرار ہے کہ انکی نجکاری نہیں کی گئی بلکہ ’’آئوٹ سورس ‘‘کیا گیا ہے۔ حکومت نے ٹھیکہ پر دیئے گئے ہر بنیادی مرکز صحت کیلئے 7سے8لاکھ روپے کی رقم مختص کی ہے ۔ہر مریض کے چیک اپ پر 400روپے دیئے جاتے ہیں جبکہ بچے کی پیدائش پر 5سے6ہزار روپے کی ادائیگی ہوتی ہے۔ یہاں تعینات سرکاری عملے کو تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کردیا گیا ہے اور انکی جگہ ٹھیکیدار کو اپنی مرضی کا اسٹاف تعینات کرنیکا اختیار دیا گیا ہے۔ مریضوں کے چیک اپ پر ادائیگی کی مد میںماہانہ 1100کی حد مقرر کی گئی ہے،یعنی اس سے زیادہ مریض آئینگے تو پیمنٹ 1100کی ہی ہوگی۔ اسی طرح ڈیلیوری کے حوالے سے بھی 30کی حد مقرر ہے۔ ٹھیکیدار نے نہ صرف تمام بلوں کی ادائیگی کرنا ہے بلکہ عملے کی تنخواہوں اور ادویات کا بندوبست بھی کرنا ہے۔ اب ایک انجیکشن جو پانچ سو روپے کا ہے وہی مارکیٹ میں 50روپے کا بھی دستیاب ہے۔ جب محدود وسائل میں کسی شخص نے کلینک چلانا ہو اور اپنے لئے پیسے بھی بچانا ہوں تو یقیناً سب سے سستی ادویات ہی خریدی جائیں گی ۔جب حکومت بڑے پیمانے پر ادویات خریدتی ہےتو نہ صرف قیمت کم ہوتی ہے بلکہ انکا معیار بھی بہتر ہوتا ہے۔
اب یہاں ٹھیکیدار کوئی بھی ہو،اسکی کوشش ہوگی کہ اخراجات کم سے کم ہوں۔ یہاں کام کرنیوالے اسٹاف کی تنخواہیں سرکاری اسپتالوں کی نسبت کم اور سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ عوام نے ’’آئوٹ سورس‘‘ کئے گئے ان مراکز صحت کا رُخ کرنا چھوڑ دیا ہے۔جو پنجاب کے پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم کے لیے ایک سنجیدہ خطرے کی علامت ہے۔



