ہالا پرانا: سندھ کا ماڈل ولیج، سماجی اور تعلیمی ترقی کی روشن مثال

مٹیاری( رپورٹ امجد راجپوت، نمائندہ جانوڈاٹ پی کے)دریائے سندھ کے کنارے واقع تاریخی قصبہ ہالا پرانا نہ صرف خوبصورت جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے بلکہ علمی و ادبی خاندانوں اور سماجی خدمات کی بدولت پورے پاکستان میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔
حفیظ قریشی ٹرسٹ کی دعوت پر کینیڈا سے آئے ہوئے معزز مہمانوں خیر محمد کولاچی، مبشر ملک، عبدالجبار لاشاری اور عمران شیخ اور انعام اللہ شیخ پر مشتمل وفد ایک روزہ دورے پر ہالا پرانا پہنچا۔ وفد کا استقبال ڈاکٹر قاضی طاہر قریشی (سینئر افسر، محکمہ کسٹمز)اور سول سوسائٹی آف سندھ کے چیئرمین سید گلفام کاظمی، فنانس سیکریٹری انجینئر عنایت اللہ میمن اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن انجینئر کے کے نارائن داس نے کیا۔
اس موقع پر مہمان وفد کو ہالا پرانا میں مکمل کیے گئے نمایاں سماجی اور تعلیمی منصوبوں کا تفصیلی دورہ کروایا گیا، جن میں دارالشفاء اسپتال، آئی ٹی کالج، رورل ہیلتھ سینٹر، 150 سالہ تاریخی و قدیم مین پرائمری اسکول ہالا پرانا اور دریائے سندھ کے کنارے قائم مہران پیراڈائز پکنک پوائنٹ شامل تھے۔
دورے کے دوران کینیڈا سے آئے ہوئے مہمانوں نے مہران پیراڈائز پکنک پوائنٹ پر قومی روایت کے مطابق پرچم کشائی کی، شجرکاری مہم میں حصہ لیا اور ماحولیات کے تحفظ کے عزم کا اظہار کیا۔ اس موقع پر سول سوسائٹی آف سندھ کی جانب سے مہمانوں کو اجرک و لونگی تحفے کے طور پر پہنائے گئے جو سندھ کی ثقافت اور مہمان نوازی کی خوبصورت علامت ہیں۔
وفد نے ہالا پرانا کے باسیوں، حفیظ قریشی ٹرسٹ اور بلخلوص سول سوسائٹی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ جس خلوص، لگن اور جذبے کے ساتھ انہوں نے اپنے آبائی شہر کی وراثت سنبھالی ہے، وہ پورے سندھ کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔ اس موقعی پے
منوج کمار، محمد حبیب سنائی اور قاضی امید علی موجود تھے۔
آخر میں حفیظ قریشی ٹرسٹ کی جانب سے قاضی ہاؤس میں معزز مہمانوں کے اعزاز میں پرتکلف آجیا نے کا اہتمام کیا گیا۔ مہمان وفد نے ہالا پرانا کو ایک ماڈل ولیج قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اگر سندھ کے دیگر شہر، قصبے اور گوٹھ اسی جذبے سے ترقی کی راہ اپنائیں تو پورا سندھ خوشحالی اور خوبصورتی کی مثال بن سکتا ہے۔



