ایران میں احتجاج یا خانہ جنگی؟ وزیرِ انصاف کا مظاہرین کے لیے سخت سزاؤں کا اعلان

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی وزیرِ انصاف نے حالیہ مظاہروں میں شریک افراد کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں ہونے والے واقعات کو محض احتجاج قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ ایک مکمل داخلی خانہ جنگی کے مترادف تھے۔
ایرانی وزیرِ انصاف کے مطابق مظاہروں میں شامل ہر فرد کو قانون کی نظر میں مجرم تصور کیا جائے گا اور گرفتار افراد کے ساتھ کسی قسم کی رعایت یا نرمی نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے خلاف سخت ترین قانونی اقدامات ناگزیر ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ عدلیہ نے گرفتار مظاہرین کے تیز رفتار ٹرائلز کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے تاکہ فیصلے جلد از جلد سنائے جا سکیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی حکومت نے ان مظاہروں کو داخلی جنگ، بدامنی اور دہشت گردی سے جوڑتے ہوئے سیکیورٹی اداروں کو سخت کارروائی کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ مظاہرین کو ممکنہ طور پر دی جانے والی سزاؤں، جن میں پھانسی بھی شامل ہو سکتی ہے، پر عالمی برادری اور امریکا کی جانب سے شدید تشویش اور انتباہ سامنے آیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کا مزید کہنا ہے کہ ایرانی حکومت نے احتجاجی تحریک کو ریاستی سلامتی کے خلاف منظم کارروائی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی اپنانے کا عندیہ دے دیا ہے۔



