امریکا نے غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے آغاز کااعلان کردیا

واشنگٹن(جانوڈاٹ پی کے)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے  تیار کردہ منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے۔

بدھ کو سوشل میڈیا پر جاری بیان میں اسٹیو وِٹکوف نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا 20 نکاتی غزہ منصوبہ اب جنگ بندی سے آگے بڑھتے ہوئے ڈی ملٹرائزیشن، ٹیکنوکریٹک حکومت اور تعمیرِ نو کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔

وِٹکوف کے مطابق دوسرے مرحلے کے تحت ایک عبوری انتظامیہ قائم کی جائے گی جو غزہ کا انتظام سنبھالے گی جبکہ اس مرحلے میں غزہ کو مکمل طور پر ڈی ملٹرائز کیا جائے گا اور تعمیرِ نو کا عمل بھی شروع کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا توقع کرتا ہے کہ حماس اپنی تمام ذمہ داریوں پر مکمل طور پر عمل کرے گی، جن میں آخری ہلاک یرغمالی کی لاش کی فوری واپسی بھی شامل ہے۔ وِٹکوف نے خبردار کیا کہ اس میں ناکامی کی صورت میں سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے مکمل بیان میں اسٹیو وِٹکوف نے کہا کہ ’آج صدر ٹرمپ کی جانب سے ہم غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے 20 نکاتی منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کر رہے ہیں‘۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ دوسرے مرحلے کے تحت غزہ میں ایک عبوری ٹیکنوکریٹک فلسطینی انتظامیہ قائم کی جائے گی جسے نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ (این سی اے جی) کا نام دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی غزہ کی مکمل ڈی ملٹرائزیشن اور تعمیرِ نو کا عمل شروع ہو گا جس کا بنیادی مقصد غیر مجاز مسلح عناصر کو غیر مسلح کرنا ہے۔

اسٹیو وِٹکوف نے کہا کہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے دوران تاریخی انسانی امداد فراہم کی گئی، جنگ بندی کو برقرار رکھا گیا، تمام زندہ یرغمالیوں کو رہا کرایا گیا اور 28 میں سے 27 ہلاک شدہ یرغمالیوں کی لاشیں واپس لائی گئیں۔ انہوں نے اس پیش رفت میں مصر، ترکی اور قطر کے کردار کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے ان کی ثالثی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں نافذ ہونے والی جنگ بندی کے بعد اسرائیل اس کی تقریباً 1200 مرتبہ خلاف ورزی کر چکا ہے، جس کے نتیجے میں 400 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button