چین،جوہری آبدوزوں کے بیڑے میں دنیا کا دوسرا سب سے بڑا آپریٹر بن گیا

چین نے عالمی عسکری توازن میں ایک اور بڑی پیشرفت کرتے ہوئے جوہری آبدوزوں کے بیڑے کے لحاظ سے روس کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور اب امریکاکے بعد دنیا کا دوسرا سب سے بڑا جوہری آبدوز آپریٹر بن چکا ہے۔یہ پیشرفت نہ صرف چین کی بحری طاقت میں اضافے کی علامت ہے بلکہ عالمی جغرافیائی سیاست، بالخصوص ایشیا پیسفک خطے میں طاقت کے توازن پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔
جوہری آبدوزیں: جدید جنگ کا خاموش ہتھیار
جوہری آبدوزیں جدید بحری جنگ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ آبدوزیں ایٹمی توانائی سے چلتی ہیں، طویل عرصے تک پانی کے اندر رہ سکتی ہیں اور بیلسٹک یا کروز میزائلوں سے لیس ہوتی ہیں۔ ان کی سب سے بڑی طاقت ان کی خاموشی اور پوشیدگی ہے، جس کی بدولت دشمن کے ریڈار اور نگرانی کے نظام سے بچنا ممکن ہوتا ہے۔
چین کی تیز رفتار بحری توسیع
گزشتہ دو دہائیوں میں چین نے اپنی بحریہ، خصوصاً پیپلز لبریشن آرمی نیوی (PLAN)، کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ چین نے نہ صرف نئی نسل کی جوہری آبدوزیں تیار کیں بلکہ مقامی ٹیکنالوجی، سینسرز، اسٹیلتھ ڈیزائن اور میزائل صلاحیتوں میں بھی نمایاں بہتری لائی۔
چین کے جوہری آبدوز پروگرام میں خاص طور پر درج ذیل اقسام شامل ہیں
SSBN (جوہری بیلسٹک میزائل آبدوزیں)
SSN (جوہری حملہ آور آبدوزیں)
ان آبدوزوں کا بنیادی مقصد چین کی Second-Strike Capability کو مضبوط بنانا ہے، یعنی اگر چین پر ایٹمی حملہ ہو تو وہ جوابی کارروائی کی مکمل صلاحیت رکھتا ہو۔
روس کو پیچھے چھوڑنے کی وجوہات
روس طویل عرصے تک امریکہ کے بعد جوہری آبدوزوں کا سب سے بڑا بیڑا رکھتا رہا، تاہم حالیہ برسوں میں معاشی دباؤ، یوکرین جنگ، اور دفاعی بجٹ پر بوجھ کے باعث روسی بحری توسیع کی رفتار سست ہو گئی۔ اس کے برعکس چین نے مسلسل اور منظم انداز میں اپنی بحری قوت کو وسعت دی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ تعداد اور آپریشنل صلاحیت میں روس سے آگے نکل گیا۔
امریکہ کے بعد دوسرا بڑا کھلاڑی
اگرچہ چین اب دنیا کا دوسرا سب سے بڑا جوہری آبدوز آپریٹر بن چکا ہے، تاہم امریکہ اب بھی اس میدان میں سرفہرست ہے۔ امریکی نیوی کے پاس نہ صرف بڑی تعداد میں جوہری آبدوزیں ہیں بلکہ ان کا آپریشنل تجربہ، عالمی نیٹ ورک اور جدید ٹیکنالوجی بھی بے مثال ہے۔ تاہم چین کی پیش رفت اس فرق کو بتدریج کم کر رہی ہے۔
عالمی اور علاقائی اثرات
چین کی اس پیش رفت کے اثرات خاص طور پر درج ذیل علاقوں میں محسوس کیے جا رہے ہیں:
جنوبی بحیرہ چین
تائیوان اسٹریٹ
بحر الکاہل
امریکا،جاپان، آسٹریلیا اور بھارت جیسے ممالک چین کی بحری طاقت میں اضافے کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں،جس کے نتیجے میں دفاعی اتحاد، جیسےAUKUSاورQuad،مزید فعال ہو رہے ہیں۔
چین کا جوہری آبدوزوں کے میدان میں روس کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کا دوسرا بڑا آپریٹر بننا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بیجنگ اب صرف معاشی نہیں بلکہ عسکری طور پر بھی ایک مکمل عالمی طاقت بننے کی راہ پر گامزن ہے۔ آنے والے برسوں میں چین اور امریکہ کے درمیان بحری برتری کی یہ خاموش دوڑ عالمی سیاست اور سلامتی کے منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔



