سیف علی خان 1.6ارب ڈالر کی زمین کا کیس جیت گئے

ممبئی(جانو ڈاٹ کام)اداکار سیف علی خان 1.6ارب ڈالر کی زمین کا کیس جیت گئے۔
تقریباً 25سال تک جاری رہنے والی اس عدالتی جنگ کا اختتام پٹودی خاندان کے حق میں فیصلے پر ہوا، جس کے بعد یہ پرانا تنازع اپنے انجام کو پہنچ گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جس جائیداد پر یہ مقدمہ چل رہا تھا، اس کی مجموعی مالیت تقریباً سولہ ہزار بھارتی کروڑ روپے، یعنی ایک اعشاریہ چھ ارب ڈالر کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ یہ زمین مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال کے علاقے نیاپورہ میں واقع ہے اور اس کا کل رقبہ سولہ اعشاریہ باسٹھ ایکڑ ہے۔
ضلعی عدالت مدھیہ پردیش نے اپنے فیصلے میں اس اراضی پر پٹودی خاندان کی ملکیت کو بحال کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ زمین قانونی طور پر سیف علی خان، ان کی والدہ اور سینئر اداکارہ شرمیلا ٹیگور اور ان کی بہنوں کی ہی ملکیت ہے۔ اس فیصلے کو خاندان کے لیے ایک بڑی قانونی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ تنازع پہلی بار 1998 میں سامنے آیا تھا، جب عقیل احمد اور چند دیگر افراد نے عدالت میں دعویٰ دائر کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ زمین پٹودی خاندان کی نہیں بلکہ ان کے آبا و اجداد کی ملکیت ہے۔ مدعیان کا کہنا تھا کہ سابق ریاست بھوپال کے نواب حمید اللہ خان نے 1936 میں یہ جائیداد ان کے بزرگوں کو بطور تحفہ دی تھی، جس کی بنیاد پر وہ خود کو اس کے جائز مالک سمجھتے ہیں۔تاہم طویل عدالتی کارروائی کے دوران مدعیان اپنے دعوے کے حق میں کوئی مضبوط یا قابلِ اعتبار دستاویزی ثبوت پیش نہ کر سکے۔ عدالت نے کیس کے تمام ریکارڈ اور دلائل کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ قرار دیا کہ زمین کی منتقلی یا تحفے سے متعلق کوئی مستند شواہد موجود نہیں ہیں۔ شواہد کی کمی اور قانونی تقاضے پورے نہ ہونے کی بنیاد پر عدالت نے دعویٰ کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔



