خلیجی ممالک نے ایران پر امریکی حملےکی مخالفت کردی

لاہور(انٹر نیشنل ڈیسک)خلیجی ممالک نے ایران پر امریکی حملےکی مخالفت کردی۔وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق سعودی عرب، قطر اور عمان نے امریکا کو خبردار کیا ہےکہ وہ ایران پر حملہ نہ کرے ورنہ عالمی آئل مارکیٹ ہل جائےگی اور اس سے امریکی معیشت کو بھی نقصان پہنچےگا۔اخبار کے مطابق بظاہر یہ عرب ممالک خاموش ہیں لیکن پس منظر میں رہ کر لابنگ کر رہے ہیں کہ امریکاایران پر حملہ نہ کرے کیونکہ اس سے عالمی آئل مارکیٹ کو شدید دھچکہ لگے گااور لامحالہ امریکی معیشت بھی متاثر ہوگی۔سعودی حکام نے تہران کو یقین دلایا ہےکہ وہ ایران کے ساتھ کسی تنازع میں نہیں پڑیں گےاور امریکا کو ایران پر حملےکےلئے اپنی فضائی حدود استعمال نہیں کرنے دیں گے۔یہ اقدام امریکی کارروائی سے خود کو دور رکھنے اور اسے روکنے کی کوشش کے طور پر کیا گیا ہے۔عرب ریاستوں کو خدشہ ہےکہ ایران پر حملے سے آبنائے ہرمز کے ذریعےگزرنے والے تیل کے ٹینکروں کی آمدورفت متاثر ہوسکتی ہے، یہ تنگ آبی گزرگاہ خلیج فارس کے دہانے پر ایران کو اس کے عرب پڑوسیوں سے جدا کرتی ہے اور دنیا کی تقریباً پانچویں حصےکی تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔اخبار کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے واضح نہیں کیا کہ ایران کے خلاف کس نوعیت کی فوجی کارروائی پر غور کیا جا رہا ہے تاہم حکام کا کہنا ہےکہ حملے کا امکان زیادہ ہے۔وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ ایران کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے صدر ٹرمپ کے پاس تمام آپشنز موجودہیں،صدر مختلف آرا سنتے ہیں لیکن آخرکار وہی فیصلہ کرتے ہیں جو وہ بہتر سمجھتے ہیں۔گزشتہ روز ٹرمپ نے ایرانی مظاہرین سے براہ راست مخاطب ہوتے ہوئے انہیں حکومت کی جانب سے احتجاج دبانے کی کوششوں کی مخالفت کرنے اور ریاستی اداروں پر قبضہ کرنے کو کہا تھا اور اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا تھا کہ ‘مدد آ رہی ہے۔



