امریکی سینیٹرز کا ٹرمپ کو گرین لینڈ سمیت نیٹو ممالک پر قبضے سے روکنے کے لیے نیا بل پیش

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی سینیٹرز نے ایک نیا بل متعارف کرایا ہے جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نیٹو کے کسی بھی رکن ملک کی سرزمین پر قبضہ کرنے یا اس پر کنٹرول قائم کرنے سے روکنا ہے، جس میں نیدرلینڈز کے زیرِ انتظام خود مختار جزیرہ گرین لینڈ بھی شامل ہے۔

اس بل کو نیٹو یونٹی پروٹیکشن ایکٹ کا نام دیا گیا ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت محکمہ دفاع اور محکمہ خارجہ کو اس بات سے روک دیا جائے گا کہ وہ نیٹو کے کسی رکن ملک کی سرزمین کو محاصرے میں لینے، قبضہ کرنے، الحاق کرنے یا کسی بھی شکل میں کنٹرول حاصل کرنے کے لیے امریکی سرکاری فنڈز استعمال کریں۔

یہ بل ڈیموکریٹک سینیٹر جین شاہین اور ریپبلکن سینیٹر لیزا مرکوسکی نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے۔ اس قانون سازی کا پس منظر صدر ٹرمپ کے وہ حالیہ بیانات ہیں جن میں انہوں نے بارہا گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں لانے کی خواہش کا اظہار کیا، حتیٰ کہ طاقت کے استعمال کی دھمکی بھی دی گئی۔

سینیٹر جین شاہین نے کہا کہ یہ قانون ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ ایسے اقدامات کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا جو نیٹو کو کمزور کریں اور امریکا کی نیٹو ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہوں۔ ان کے مطابق گرین لینڈ سے متعلق بیانات نہ صرف امریکی قومی سلامتی کے مفادات کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ کانگریس میں ان کی شدید مخالفت بھی موجود ہے۔

سینیٹر لیزا مرکوسکی نے کہا کہ نیٹو عالمی امن و استحکام کے خلاف سرگرمیوں کے مقابلے میں سب سے مضبوط دفاعی اتحاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تصور انتہائی تشویشناک ہے کہ امریکا اپنے اتحادیوں کے خلاف اپنے وسائل استعمال کرے، اور کانگریس کو قانون کے ذریعے اس کی مکمل روک تھام کرنی چاہیے۔

صدر ٹرمپ کے گرین لینڈ سے متعلق بیانات نے یورپی اتحادیوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے اور نیٹو کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، کیونکہ اتحاد کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی ایک رکن پر حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے اقدام نہ کیا تو چین یا روس اس آرکٹک خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا سکتے ہیں، جہاں معدنی وسائل اور فوسل فیول کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button