قتل ہونیوالے نوجوان کے قاتلوں کی گرفتاری میں ناکامی پر اہلِ خانہ کا پولیس کے کیخلاف احتجاج

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے) ڈیڑھ ماہ قبل ٹنڈو باگو سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان لاپتہ ہوگیا تھا، جس کی 13 دن بعد مسخ شدہ لاش تھر کے علاقے ڈیپلو کے قریب سے برآمد ہوئی پولیس کی جانب سے ملزمان کو گرفتار کرنے کے بجائے تفتیشی فائل جمع کرانے اور مبینہ طور پر قاتلوں کو بچانے کے خلاف مقتول کے اہلِ خانہ نے ٹنڈو باگو پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا تفصیلات کے مطابق، ٹنڈو باگو کا رہائشی نوجوان ارشاد علی میمن ڈیڑھ ماہ قبل گھر سے نکلنے کے بعد لاپتہ ہوگیا تھا، جس کی 13 دن بعد تھر کے علاقے ڈپلو کے قریب گاؤں ہلاریو کے جنگل سے مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی۔ ٹنڈو باگو تھانے میں ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود ٹنڈو باگو پولیس نے مبینہ طور پر قاتلوں کو بچانے کی نیت سے حتمی تفتیشی رپورٹ جمع کرا دی ملزمان کی عدم گرفتاری اور تفتیش بند کرنے کے خلاف مقتول کی والدہ زینت میمن، ضعیف دادی مریم میمن اور والد گلزار علی میمن نے ٹنڈو باگو پولیس کے خلاف ٹنڈو باگو پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اس موقع پر مقتول کے اہلِ خانہ نے کہا کہ ان کے نوجوان بیٹے کو سازش کے تحت بلایا گیا اور بے دردی سے قتل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ڈی آئی جی میرپورخاص اور ایس ایس پی مٹھی کو درخواستیں دی تھیں، جن میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ یہ جانچ کی جائے کہ ڈپلو اور ٹنڈو باگو پولیس قاتلوں کو کیوں گرفتار نہیں کر رہی، تاہم تاحال کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی اہلِ خانہ نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی میرپورخاص اور مٹھی و بدین کے ایس ایس پیز سے اپیل کی کہ ان کے نوجوان بیٹے کے قتل کی مکمل اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button