سہیل آفریدی کے دورے کے دوران کراچی میں 9مئی دہرانے کی کوشش کی گئی، شرجیل میمن

کراچی (جانوڈاٹ پی کے) سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی حالیہ احتجاجی کارروائیوں کے دوران حکومت سندھ نے صبر و تحمل سے کام لیا اور کوئی مقدمہ درج نہیں کیا۔
پریس کانفرنس میں شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ چند دن قبل خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سندھ آئے، جس کی اطلاع پر سندھ حکومت نے رابطہ کیا اور سکیورٹی و سہولیات کی یقین دہانی کرائی۔ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ابتدائی دنوں میں کچھ مقامات پر محدود حرکت کی ہدایات دی گئی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ دوسرے دن وزیر اعلیٰ سندھ کے ہمراہ سی ایم کے پی حیدرآباد گئے، جہاں سپر ہائی وے پر ایک پل پر دشواری پیش آئی، اور مسافروں کو ٹریفک میں پھنسنے کی صورت حال دیکھنے میں آئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ "چار گھنٹے ٹریفک میں پھنسنے سے حکومت کو کیا فائدہ ہوتا؟”
شرجیل میمن نے کہا کہ پی ٹی آئی نے زبانی طور پر جلسے کی اجازت مانگی، مگر بعد میں انہوں نے باغ جناح کی بجائے سڑک پر جلسہ کرنے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے ذریعے 9 مئی جیسے خطرناک واقعات کو دہرائے جانے کی کوشش کی گئی، پولیس پر پتھراؤ کیا گیا، اور صحافیوں خصوصاً خواتین صحافیوں پر تشدد کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے مہمان نوازی کے جذبے کے ساتھ پی ٹی آئی رہنماؤں کا استقبال کیا، مگر ان کی شرافت کا ناجائز فائدہ اٹھایا گیا۔ شرجیل انعام میمن نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا شیڈول پہلے سے طے تھا، اور حکومت نے پیغام دیا کہ اگر وہ نہیں آ سکتے تو ہم آنے کے لیے تیار ہیں۔
سینئر وزیر نے طالبان رہنماؤں کی رہائی پر بھی سوال اٹھایا، کہا کہ سزا یافتہ افراد کو عدالت اور قانونی طریقہ کار کے بغیر رہا کیا گیا، اور اس دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے طالبان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے دور میں یہی طالبان رہنماؤں با عزت بری کر دیے گئے۔
شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی سرگرمیاں پاکستان اور اداروں کے خلاف سازشوں کے مترادف ہیں، اور حکومت نے تمام معاملات میں قانون کی بالادستی اور عوامی تحفظ کو مدنظر رکھا۔



