آنا ڈیلوی کا’’لانگ کون‘‘اور عمران خان کی’’ریاستِ مدینہ‘‘

انسانی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ابھرتی ہیں جو اپنی غیر معمولی سماجی مہارتوں کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے اجتماعی شعور کو مفلوج کر دیتی ہیں۔یہ مطالعہ دو ایسے کرداروں کا احاطہ کرتا ہے جنہوں نے ایک "مصنوعی شخصیت”کی تخلیق کے ذریعے اپنے گرد ایک ایسا جادوئی ہالہ تیار کیا کہ بینکوں کے منجھے ہوئے افسروں سے لے کر ایک پوری قوم کے پڑھے لکھے طبقے تک، سب ان کے فریب کا شکار ہو گئے۔ اس پورے عمل میں جدید میڈیا اور سوشل میڈیا نے وہ ایندھن فراہم کیا جس نے ایک واہمے کو حقیقت بنا کر پیش کیا۔
آنا ڈیلوی(Anna Delvey) کی کہانی یوں ہے،اس کا اصل نام اینا سوروکن(Anna Sorokin) تھا،جو روس میں پیدا ہوئی اور بعد میں جرمنی منتقل ہوگئی۔اس کے والد ایک ٹرک ڈرائیورتھے اور خاندان کا شاہانہ طرزِ زندگی سے دور دور تک کوئی واسطہ نہ تھا۔لیکن اینا نے نیویارک آتے ہی اپنے اصل پس منظر کو کاٹ کر خود کو ایک ایسی”جرمن امیرزادی” کے طور پر متعارف کرایا جس کا ساٹھ ملین ڈالرکا "ٹرسٹ فنڈ”اسے ملنے والا تھا۔ اس نے اپنے لباس، لہجےاور باڈی لینگویج سے ایک ایسی شخصیت تراشی کہ لوگ اسے اس کی اصل حیثیت کے بجائے اس کے دکھاوے سے پہچاننے لگے۔ اُس نے سیکڑوں لوگوں سے فرڈ کیا جس میں بینکوں کے اعلیٰ افسروں سے لے کر ماہر وکلا تک شامل تھے۔
عمران خان کی کہانی میں بھی ایک خاص”سیاسی تشخص”کے گرد گھومتی ہے۔ ایک عالمی شہرت یافتہ کرکٹر اور کینسر ہسپتال کی تعمیر کے بعدانہوں نے سیاست میں ایک ایسے "مسیحا”کا روپ دھارا جو روایتی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ یہاں بھی نفسیاتی اصول "ہالو ایفیکٹ” نے کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ ایک ایسا ذہنی میلان ہے جہاں ہم کسی شخص کی ایک شعبے کی کامیابی(جیسے کرکٹ یا سماجی خدمت) کو دیکھ کر یہ فرض کرلیتے ہیں کہ وہ دوسرے پیچیدہ شعبوں(جیسے معیشت یا سیاست)میں بھی اتنا ہی ماہر ہوگا۔ عوام نے ان کی ماضی کی شہرت کو ان کی سیاسی قابلیت کا سرٹیفکیٹ سمجھ لیا۔جدید دور میں کسی بھی مصنوعی شخصیت کو پروان چڑھانے میں میڈیا کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ آنا ڈیلوی نے "انسٹاگرام”کو اپنے فریب کے لیے ایک "سوشل پروف” کے طور پر استعمال کیا۔وہ مہنگے ہوٹلوں، پرائیویٹ جیٹس اور آرٹ گیلریز کی تصاویر پوسٹ کرتی تھی،جس سے دیکھنے والوں کو یہ گمان ہوتا تھا کہ وہ واقعی امیر ہے۔سوشل میڈیا کے "الگورتھمز”نے اس کے اس طرزِ زندگی کو مزید گلیمرائز کیا،جس کی وجہ سے بینکوں اور سرمایہ کاروں نے اس کی مالی حیثیت کی تصدیق کرنے کے بجائے اس کے "ڈیجیٹل فٹ پرنٹ”پر یقین کر لیا۔
عمران خان کے کیس میں سوشل میڈیا بالخصوص "ٹویٹر”اور”ٹک ٹاک”نے ایک "ڈیجیٹل ایکو چیمبر”تخلیق کیا۔ ان کے بیانیے کو اس قدر تواتر سے پھیلایا گیا کہ حقائق کہیں پیچھے رہ گئے۔ سوشل میڈیا پر موجود ان کی "ٹرول بریگیڈ” نے ہر اس آواز کو دبایا جو تضادات کی نشان دہی کرتی تھی۔میڈیا نے انہیں ایک ناقابلِ شکست ہیرو کے طور پر پیش کیا، جس نے نوجوانوں کے ذہنوں میں ایک ایسی تصویر نقش کر دی جس میں وہ ہر غلطی سے مبرّا تھے۔ جب میڈیا کسی شخصیت کو "برانڈ”بنا دیتا ہے، تو لوگ اس کی خامیوں کو نظر انداز کر کے اس کی "مارکیٹنگ” کے اسیر ہو جاتے ہیں۔
یہاں ایک اور اہم نفسیاتی رویے کو سمجھنا ضروری ہے، جب کسی پسندیدہ شخصیت کی کوئی ناگوار حقیقت سامنے آنے لگتی ہے، تو اُس کے پیروکار ایک شدید ذہنی کرب سے گزرتے ہیں جسے نفسیات میں "ادراکی تضاد” (Cognitive Dissonance) کہا جاتا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جب انسان کے سامنے ایسے شواہد آئیں جو اس کے عقیدے کے خلاف ہوں، تو وہ سچ کو تسلیم کرنے کے بجائے اپنی عقل کو مطمئن کرنے کے لیے بہانے تراشتا ہے۔
آنا ڈیلوی کی دوست ریچل (Rachel) نے اسے اکسٹھ ہزار ڈالر دیے، لیکن جب آنا نے پیسے واپس نہیں کیے، تو ریچل خود کو یہ یقین دلاتی رہی کہ یہ صرف "بنکوں کی تکنیکی خرابی” ہے۔ وہ یہ ماننے کو تیار نہیں تھی کہ اس کی بہترین دوست ایک دھوکے باز ہے، کیونکہ یہ حقیقت تسلیم کرنا دراصل اس کی اپنی دانش مندی کی شکست تھی۔
اسی طرح، جب عمران خان کے دورِ حکومت میں معاشی تباہی کے دستاویزی ثبوت سامنے آئے، تو ان کے پیروکاروں نے "تصدیقی تعصب”کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے”عالمی سازش” یا "سابقہ حکومتوں کا ملبہ” قرار دیا۔ یہ نفسیاتی دفاعی میکانزم پیروکاروں کو اس صدمے سے بچاتا ہے کہ ان کا انتخاب غلط تھا۔
دونوں کرداروں نے اپنی ساکھ کو جواز فراہم کرنے کے لیے ایک بڑے خواب کا سہارا لیا۔ آنا ڈیلوی نے "آنا ڈیلوی فاؤنڈیشن” (Anna Delvey Foundation – ADF) کا منصوبہ پیش کیا، جو کہ ایک پرائیویٹ آرٹ کلب ہونا تھا۔ یہ اس کا "لانگ کون” (Long Con) تھا جس کے ذریعے وہ بینکوں سے بائیس ملین ڈالر کا قرضہ لینا چاہتی تھی۔ اس فاؤنڈیشن کا کوئی حقیقی وجود نہیں تھا، لیکن یہ اسے "قانونی حیثیت” (Legitimacy) فراہم کرنے کا ذریعہ بنی۔
عمران خان کا "ریاستِ مدینہ” (Riyasat-e-Madina) کا تصور بالکل اسی طرح ایک ایسی "یوٹوپیائی منزل” (Utopian Goal) تھی جس کا کوئی حقیقی یا عملی روڈ میپ ان کے پاس موجود ہی نہیں تھا۔ جس طرح آنا کا ہر مالی فراڈ اس کی فاؤنڈیشن کے نام پر چھپ جاتا تھا، ویسے ہی خان صاحب کی ہر انتظامی ناکامی کو "ریاستِ مدینہ کی تعمیر میں آنے والی آزمائش” کہہ کر جائز قرار دیا گیا۔ یہ دونوں تصورات دراصل "جذباتی استحصال” (Emotional Manipulation) کے اوزار تھے، جن کا مقصد حال کی تلخ حقیقتوں سے عوام کی توجہ ہٹا کر ایک غیر یقینی مستقبل کے سہانے خواب میں الجھائے رکھنا تھا۔
نفسیاتی طور پر یہ دونوں کردار "ڈارک ٹرائیڈ” (Dark Triad) کی خصوصیات کے حامل نظر آتے ہیں، جس میں "نارسسزم” (Narcissism) یعنی خود پسندی، "میکیاویلینزم” (Machiavellianism) یعنی مقصد کے لیے ہیرا پھیری، اور "سائیکوپیتھی” (Psychopathy) یعنی ضمیر کی عدم موجودگی شامل ہیں۔ آنا ڈیلوی نے جیل سے نکلنے کے بعد بھی فخر سے کہا کہ اس نے کچھ غلط نہیں کیا، بلکہ وہ نیویارک کا کھیل دوسروں سے بہتر کھیلی۔ عمران خان نے بھی کبھی اپنی پالیسیوں کی ناکامی پر حقیقی "پشیمانی” (Lack of Remorse) کا اظہار نہیں کیا، بلکہ ہمیشہ دوسروں کو قصوروار ٹھہرایا۔
آنا ڈیلوی اورعمران خان کی مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ جب سماجی مہارتیں، میڈیا کا گلیمر اور عوامی محرومیاں آپس میں ملتی ہیں، تو ایک "زہریلا فریب” (Toxic Delusion) جنم لیتا ہے۔ جدید دور کا انسان اگرچہ ٹیکنالوجی سے لیس ہے، لیکن وہ آج بھی "کرشماتی جھوٹ” کا اسی طرح شکار بنتا ہے جیسے صدیوں پہلے بنتا تھا۔ یہ مطالعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہم شخصیات کے سحر سے نکل کر "تجزیاتی سوچ” (Analytical Thinking) اپنائیں، ورنہ جب تک ہم خوابوں کو حقیقت سمجھ کر ان میں سرمایہ کاری کرتے رہیں گے، "آنا ڈیلوی” جیسے سماجی شکاری اور "جھوٹے مسیحا” ہمارا استحصال کرتے رہیں گے۔



