کونسی چیز انٹرنیٹ پر وائرل ہوتی ہے؟ ڈیجیٹل دنیا کے دلچسپ حقائق

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) انٹرنیٹ کی دنیا ہر لمحہ بدل رہی ہے۔ آج جو مواد سوشل میڈیا پر وائرل ہوتا ہے، کل شاید اسے کوئی یاد بھی نہ رکھے، اور اگلے ہی دن کوئی نیا ٹرینڈ آ کر دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لیتا ہے۔ یہی ڈیجیٹل دنیا کی تیزی اور غیر یقینی مزاج ہے۔
آج کے ڈیجیٹل دور میں وائرل ہونا محض اتفاق نہیں بلکہ یہ دلچسپی، جذبات، جدت اور منفرد پیشکش کا امتزاج ہوتا ہے۔ نوجوانوں سے لے کر بڑے برانڈز تک، ہر کوئی یہ جاننے کی کوشش میں ہے کہ آخر وہ کون سے عناصر ہیں جو سوشل میڈیا پر ’’آگ لگا دیتے ہیں‘‘۔
ماہرین کے مطابق کسی بھی وائرل مواد کی سب سے بڑی خوبی اس کا ریلیٹ ایبل ہونا ہے۔ ایسا مواد جو دیکھتے ہی عام لوگ یہ محسوس کریں کہ ’’یہ تو ہمارے ساتھ بھی ہوتا ہے‘‘۔ چاہے وہ مزاحیہ ردِعمل ہو، روزمرہ زندگی سے جڑا کوئی لمحہ یا چند سیکنڈز پر مشتمل موٹیویشنل کلپ—ایسی پوسٹس چند گھنٹوں میں ہزاروں شیئرز حاصل کر لیتی ہیں۔
دوسرا اہم عنصر جذبات ہیں۔ خوشی، حیرت، دکھ، ہمدردی یا انسانیت سے جڑا کوئی پہلو اگر مواد میں شامل ہو تو اس کے وائرل ہونے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ جذباتی مواد سرحدوں کا محتاج نہیں رہتا اور تیزی سے دنیا بھر میں پھیل جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر آج بھی ویڈیوز سب سے زیادہ وائرل ہونے والی کیٹیگری سمجھی جاتی ہیں۔ ٹک ٹاک اور انسٹاگرام ریلز نے مختصر دورانیے کی ویڈیوز کو غیر معمولی طاقت دے دی ہے، جہاں چند سیکنڈز میں کسی عام فرد کو عالمی شہرت مل سکتی ہے۔
منفرد ٹیلنٹ، مزاحیہ اسکیچز، ٹریول کلپس یا ڈانس چیلنجز ایسی مثالیں ہیں جو دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہیں۔ اسی طرح منفرد فوڈ ریسپیز، گھر سجاوٹ کے آسان اور فوری ٹرکس، اور ہلکے پھلکے لائف ہیکس بھی فوراً ٹرینڈ بن جاتے ہیں۔
آج کل سوشل میڈیا چیلنجز بھی وائرل ہونے کی بڑی وجہ بن چکے ہیں۔ لوگ نہ صرف انہیں دیکھتے ہیں بلکہ خود ویڈیوز بنا کر اپلوڈ کرتے ہیں، جس سے بعض اوقات ایک عام سا آئیڈیا عالمی مہم کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
بعض مواد محض اپنی انوکھائی کی وجہ سے وائرل ہو جاتا ہے، جیسے حیران کن خبریں، عجیب و غریب حقائق، جانوروں کی دلچسپ ویڈیوز یا ایسے واقعات جن کی کوئی فوری وضاحت ممکن نہ ہو۔
دنیا بھر کے بڑے برانڈز بھی اب وائرل ہونے کی طاقت کو بخوبی سمجھ چکے ہیں۔ اسی لیے وہ ایسے تخلیقی اشتہارات اور ڈیجیٹل مہمات تیار کرتے ہیں جو نوجوانوں کو فوراً متاثر کریں۔ کبھی کسی یادگار ڈائیلاگ کی وجہ سے اشتہار وائرل ہو جاتا ہے اور کبھی کسی معروف انفلونسر یا فنکار کی شمولیت کامیابی کی ضمانت بن جاتی ہے۔
اگرچہ انٹرنیٹ پر وائرل ہونے کا کوئی حتمی فارمولا موجود نہیں، تاہم ایک بات طے ہے کہ جتنا مواد منفرد، مختصر، جذباتی اور آسانی سے شیئر ہونے والا ہوگا، اس کے وائرل ہونے کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔ آنے والے وقت میں بھی یہی عوامل سوشل میڈیا ٹرینڈز کی سمت کا تعین کرتے رہیں گے۔



