ایران میں احتجاجی لہر شدت اختیار کر گئی، ہلاکتیں 500 سے تجاوز، امریکا کو سخت وارننگ

دبئی، تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران میں جاری حکومت مخالف احتجاج کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر گئی ہے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس اِن ایران (HRANA) کا کہنا ہے کہ اب تک 490 مظاہرین اور 48 سکیورٹی اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ ایک ہزار 600 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

روئٹرز کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کو 2022 کے بعد سب سے بڑے عوامی مظاہروں کا سامنا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار خبردار کر چکے ہیں کہ اگر مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا تو امریکا مداخلت کر سکتا ہے، تاہم روئٹرز نے واضح کیا ہے کہ وہ ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں کر سکا۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ پرامن احتجاج عوام کا آئینی حق ہے، تاہم بدامنی اور تشدد کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا الزام تھا کہ امریکا اور اسرائیل ایران میں فسادات کو ہوا دے رہے ہیں اور عوام کو ان عناصر سے دور رہنا چاہیے۔

ادھر پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر اور ایرانی پارلیمان کے موجودہ اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے بارے میں امریکی اندازے غلط ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو اسرائیلی اہداف، امریکی فوجی اڈے اور بحری جہاز ایران کے لیے قانونی ہدف ہوں گے۔

ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج 28 دسمبر کو شروع ہوا تھا، جو بعد ازاں حکومت مخالف تحریک میں تبدیل ہو گیا۔ ایرانی حکومت کا مؤقف ہے کہ حالیہ بدامنی کے پیچھے امریکا اور اسرائیل کا ہاتھ ہے۔

ایرانی پولیس چیف احمد رضا رادان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے فسادی عناصر سے نمٹنے کے لیے کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں تہران کی سڑکوں پر رات کے وقت ہزاروں افراد کو مارچ کرتے، تالیاں بجاتے اور نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک ویڈیو میں ایک شخص یہ کہتے ہوئے بھی سنا گیا کہ “اس ہجوم کا نہ کوئی سرا ہے اور نہ ہی کوئی آخر۔”

شمال مشرقی شہر مشہد سے موصول ہونے والی فوٹیج میں جلتی ہوئی سڑکیں، نقاب پوش مظاہرین، ملبہ اور دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دیتا ہے، جبکہ بعض ویڈیوز میں دھماکوں کی آوازیں بھی سنی جا سکتی ہیں۔

سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تصاویر میں تہران کے کورونر آفس میں باڈی بیگز دکھائے گئے، جن کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ وہ افراد ہیں جو مسلح دہشت گردوں کا نشانہ بنے۔ حکام کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران 114 سرکاری اہلکار بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button