ٹرمپ کا ایران میں مظاہروں پر گہری نظر رکھنے کا اعلان، مداخلت اور کارروائی کے اشارے

ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف کارروائی پر غور کر رہی ہے، امریکی اخبار کا دعویٰ

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر ضرورت پڑی تو ایرانی مظاہرین کی مدد کے لیے تیار ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران آزادی کی طرف بڑھ رہا ہے اور موجودہ صورتحال ماضی میں کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام کئی برسوں سے حکومتی ظلم کا شکار رہے ہیں اور اب اس کا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر ایران میں مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کر سکتا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس مداخلت کا مطلب ایران میں امریکی فوج اتارنا نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق ایران کے بعض شہروں میں مظاہرین نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے جبکہ حکومتی رِٹ کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

دوسری جانب ایران میں حکومت مخالف مظاہرے تیرہویں روز میں داخل ہو چکے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق پرتشدد واقعات میں اب تک 15 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 65 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ بعض بین الاقوامی ذرائع اموات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بتا رہے ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق سکیورٹی فورسز نے تہران کے قریب ایک قصبے سے 100 مسلح افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ ملک بھر میں اب تک ڈھائی ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں مسلسل تیسرے روز بھی انٹرنیٹ سروس معطل ہے جس کے باعث معلومات کی ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے۔

دوسری جانب امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف کارروائی پر غور کر رہی ہے۔ اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ کو ایران پر فوجی حملوں کے مختلف آپشنز پر بریفنگ دی گئی ہے، جس کے بعد تہران میں غیر فوجی اہداف پر ممکنہ حملوں پر سنجیدگی سے غور شروع کیا گیا ہے۔

نیو یارک ٹائمز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے تاحال حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم وہ ایرانی حکومت کی جانب سے مظاہروں کو دبانے کی کوششوں کے ردِعمل میں فوجی کارروائی کی اجازت دینے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button