پاکستانJF-17تھنڈر لڑاکا طیارے بنگلہ دیش اور دیگر ممالک کو کیوں فروخت کر رہا ہے؟

لاہور(جانو ڈاٹ پی کے)پاکستان کا JF-17 تھنڈر لڑاکا طیارہ نہ صرف ملکی دفاعی ضرورت پوری کرنے والا ایک اہم اثاثہ ہے بلکہ اب یہ پاکستان کی دفاعی برآمدات کا نمایاں نشان بھی بنتا جا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں بنگلہ دیش سمیت کئی ممالک کی جانب سے JF-17 میں دلچسپی اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ پاکستان یہ طیارے کیوں فروخت کر رہا ہے اور اس کے پیچھے کیا وجوہات ہیں۔
دفاعی صنعت کو مضبوط بنانے کی حکمتِ عملی
پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں میں کامرا ایئروناٹیکل کمپلیکس کے ذریعے دفاعی پیداوار میں خود انحصاری حاصل کی ہے۔ JF-17 کی برآمد سےملکی دفاعی صنعت کو فروغ ملتا ہے،ٹیکنالوجی میں بہتری آتی ہے،روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔یہ طیارہ چین کے اشتراک سے تیار کیا گیا، مگر اب اس میں پاکستانی انجینئرنگ کا نمایاں کردار ہے۔
سستا مگر مؤثر لڑاکا طیارہ
JF-17 کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ کم لاگت میں دستیاب ہے،جدید ریڈار، میزائل اور ایویانکس سے لیس ہے،مغربی لڑاکا طیاروں کے مقابلے میں مینٹیننس آسان اور سستی ہے،اسی وجہ سے بنگلہ دیش، نائجیریا، میانمار اور دیگر ترقی پذیر ممالک اسے ایک عملی انتخاب سمجھتے ہیں۔
دوست ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون
پاکستان دفاعی برآمدات کو سفارتی تعلقات مضبوط بنانے خطے میں اسٹریٹجک توازن قائم رکھنےدوست ممالک کو قابلِ اعتماد دفاعی حل فراہم کرنےکیلئے استعمال کر رہا ہے۔بنگلہ دیش کے ساتھJF-17 کا معاہدہ دونوں ممالک کے عسکری تعلقات کو نئی سطح پر لے جا سکتا ہے۔
غیر ملکی دباؤ سے آزادی
کئی ممالک مغربی پابندیوں اور سیاسی شرائط کی وجہ سے امریکی یا یورپی طیارے نہیں خرید سکتے۔سیاسی شرائط سے نسبتاً آزاد،اسلحہ اور پرزہ جات کی سپلائی میں لچکدار،صارف ملک کو زیادہ خودمختاری دیتا ہے،یہ پہلو اسے عالمی منڈی میں پرکشش بناتا ہے۔
پاکستان کیلئے زرمبادلہ کا حصول
JF-17 بلاک تھری کی جدید صلاحیتیں
نئےJF-17 Block III میںAESA ریڈار،جدید الیکٹرانک وارفیئر سسٹم،لانگ رینج میزائل صلاحیت شامل کی گئی ہے، جو اسے جدید فضائی جنگ کے تقاضوں کے مطابق بناتی ہے اور عالمی خریداروں کا اعتماد بڑھاتی ہے۔
پاکستان JF-17 تھنڈر کی فروخت کو محض کاروبار نہیں بلکہ دفاعی خودمختاری،اسٹریٹجک سفارتکاری،معاشی استحکام اور علاقائی اثر و رسوخ کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ بنگلہ دیش اور دیگر ممالک کو JF-17 کی فروخت پاکستان کی بڑھتی ہوئی دفاعی صلاحیت اور عالمی سطح پر اعتماد کی علامت ہے۔



