پاکستان میں سست انٹرنیٹ کا مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم

اسلام آباد (جانوڈاٹ پی کے) پاکستان میں فائیو جی سروس کے آغاز کی جانب اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے، جہاں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کے لیے انفارمیشن میمورنڈم جاری کر دیا ہے۔

پی ٹی اے کے مطابق انفارمیشن میمورنڈم وفاقی حکومت کے پالیسی ڈائریکٹو کی روشنی میں جاری کیا گیا ہے، جس میں فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی سے متعلق اہم شرائط و ضوابط شامل ہیں۔ میمورنڈم کے تحت ہر ٹیلی کام آپریٹر سالانہ کم از کم ایک ہزار نئی سائٹس نصب کرنے کا پابند ہوگا۔

پہلے مرحلے میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں فائیو جی سروس لانچ کی جائے گی، جبکہ ٹیلی کام کمپنیوں کو ان شہروں میں موجودہ ٹاورز کے کم از کم 10 فیصد کو فائیو جی ٹیکنالوجی پر منتقل کرنا ہوگا۔

انفارمیشن میمورنڈم کے مطابق فور جی انٹرنیٹ کی کم سے کم رفتار 4 ایم بی پی ایس سے بڑھا کر 20 ایم بی پی ایس مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ پہلے سال کے دوران کمپنیاں انٹرنیٹ اسپیڈ کو مرحلہ وار 4 ایم بی پی ایس سے بڑھا کر 10 ایم بی پی ایس تک لے جانے کی پابند ہوں گی۔

پی ٹی اے نے فائیو جی کے لیے کم از کم انٹرنیٹ رفتار 50 ایم بی پی ایس مقرر کی ہے اور کہا ہے کہ فائیو جی سروس کو بڑے شہروں میں تیزی سے پھیلایا جائے گا۔ ٹیلی کام کمپنیاں انفارمیشن میمورنڈم پر 20 دن کے اندر اپنی تجاویز پی ٹی اے کو جمع کرا سکتی ہیں، جبکہ 26 تاریخ کے بعد فائنل انفارمیشن میمورنڈم جاری کیا جائے گا۔

پی ٹی اے کے مطابق فائیو جی کے لیے 6 مختلف بینڈز میں مجموعی طور پر 597.2 میگا ہرٹس اسپیکٹرم نیلامی کے لیے پیش کیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق 700 میگا ہرٹس بینڈ میں 30 میگا ہرٹس، 1800 میگا ہرٹس بینڈ میں 7.2 میگا ہرٹس، اور 2100 میگا ہرٹس بینڈ میں 40 میگا ہرٹس اسپیکٹرم نیلام کیا جائے گا۔

اسی طرح 2300 میگا ہرٹس بینڈ میں 50 میگا ہرٹس، 2600 میگا ہرٹس بینڈ میں 190 میگا ہرٹس، جبکہ 3500 میگا ہرٹس بینڈ میں 280 میگا ہرٹس اسپیکٹرم نیلامی کے لیے پیش کیا جائے گا۔

مزید خبریں

Back to top button