استغفار روحانی سکون، رزق میں برکت اور مشکلات کے حل کا سبب ہے، مولانا انیس الرحمان

وزیرآباد (جانوڈاٹ پی کے) استغفار اللہ تعالیٰ کی رحمت کو متوجہ کرنے، گناہوں کی معافی اور دلوں کی اصلاح کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے، یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی مسلمان صدقِ دل سے استغفار کرے اور اس کی دعائیں قبول نہ ہوں، کیونکہ اخلاص کے ساتھ کیا گیا استغفار بندے کو مستجاب الدعاؤں کے مقام تک پہنچا دیتا ہے۔ استغفار نہ صرف روحانی سکون عطا کرتا ہے بلکہ زندگی کے مسائل، تنگیوں اور پریشانیوں کے حل کا بھی یقینی سبب بنتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار معروف عالمِ دین مولانا ڈاکٹر انیس الرحمان نے جامع مسجد شانِ صحابہ اہلحدیث تاج گارڈن میں خطبہ? جمعہ کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ قرآنِ مجید اور احادیثِ نبویہ میں استغفار کی غیر معمولی فضیلت بیان کی گئی ہے اور انبیائے کرام علیہم السلام نے ہر حال میں استغفار کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنایا۔ مزید کہا کہ استغفار محض زبان سے ادا کیے گئے الفاظ کا نام نہیں بلکہ دل کی ندامت، اللہ کے حضور عاجزی اور آئندہ گناہوں سے بچنے کے پختہ عزم کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بندہ اس کیفیت کے ساتھ استغفار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے، اس کے رزق میں وسعت، عمر میں برکت اور دل کو اطمینان عطا فرماتا ہے۔ مولانا نے کہا کہ استغفار کے نتیجے میں گھریلو جھگڑے ختم ہوتے ہیں، معاشی تنگی دور ہوتی ہے اور انسان ذہنی و روحانی سکون حاصل کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص کثرت سے استغفار کو اپنا معمول بنا لیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی دعاؤں کو شرفِ قبولیت عطا فرماتا ہے اور اسے دنیا و آخرت کی بھلائیوں سے نواز دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ فتنہ خیز حالات میں امتِ مسلمہ کے لیے نجات اور کامیابی کا واحد راستہ یہی ہے کہ ہم صدقِ دل سے استغفار کریں، اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالیں، کیونکہ استغفار رحمتِ الٰہی کو متوجہ کرنے اور بندے کو قربِ الٰہی عطا کرنے کا مضبوط ذریعہ ہے۔

مزید خبریں

Back to top button