عوامی تحریک کے زیرِ اہتمام”سندھ کا وجود اور وسائل بچاؤ” کے عنوان سے مچ کچہری

بدین(رپورٹ:مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے )بدین کے ڈیئی شہر کے قریب گاؤں مینان میں عوامی تحریک کے زیرِ اہتمام "سندھ کا وجود اور وسائل بچاؤ” کے عنوان سے ایک مچ کچہری منعقد کی گئی، جس میں ہاریوں، مزدوروں اور طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔مچ کچہری سے خطاب کرتے ہوئے عوامی تحریک کے مرکزی نائب صدر ستار رند، مرکزی رابطہ سیکریٹری لال جروار، مہران درس، امیر بخش جروار، ہمیرومل، مختیار بکاری، ایڈووکیٹ فاضل زئور، مرتضیٰ شام، وشال کوہستانی، بہادر تالپر، سریش کمار، بھون کمار، رفیق خاصخیلی اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ ترمیمی ایکٹ 2023ء ایک سیاہ قانون ہے جو سندھ کے وسائل، زمینوں اور اختیارات پر براہِ راست حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریٹ فارمنگ جیسے منصوبے لا کر سندھ کے ہاریوں کو بے دخل کیا جا رہا ہے۔ سندھ کو ڈاکو راج اور لاقانونیت کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی زمین، پانی، معدنیات اور دیگر وسائل سندھ کے عوام کی مشترکہ ملکیت ہیں۔ پیپلز پارٹی کو سندھ کے وسائل فروخت کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ سندھ کے وسائل سندھی قوم پر خرچ کیے جائیں اور کارونجھر، کینجھر، کھیرتھر، گورکھ اور گنجے ٹکر سمیت سندھ کے تمام تاریخی اور ثقافتی مقامات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ مچ کچہری میں شاعر مجید جمالی اور ممتاز ابڑو نے اپنی انقلابی شاعری پیش کی۔آخر میں محفلِ موسیقی منعقد ہوئی جس میں بھینوجوان گلوکار اخلاق خاصخیلی اور ناتھو کوسو نے قومی اور انقلابی گیت سنا کر محفل کو جھومنے پر مجبور کر دیا اور شرکاء میں نیا جوش اور ولولہ پیدا کیا۔



