ٹھٹھہ تا کراچی نیشنل ہائی وے پر غیر قانونی اوور لوڈڈ ہیوی گاڑیاں عوام کیلئے وبال جان بن گئیں

ٹھٹھہ (جاوید لطیف میمن، نمائندہ جانوڈاٹ پی کے) حیدرآباد تا ٹھٹھہ اور ٹھٹھہ تا کراچی نیشنل ہائی وے پر غیر قانونی ہیوی لوڈڈ گاڑیوں کی بھرمار نے عوام کے لیے شدید خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ اس شاہراہ پر روزانہ سیکڑوں بڑی گاڑیاں لکڑی، گھاس اور دیگر سامان سے بھری ہوئی چلتی ہیں، جس سے چھوٹی گاڑیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والے شہریوں کی جان کو مستقل خطرہ لاحق ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق، نیشنل ہائی وے پر ہیوی گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے چھوٹی گاڑیوں میں سفر کرنے والے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ شاہراہ ملک کی اہم ترین تجارتی اور ٹریفک روٹ ہے، جہاں کراچی سے اندرون ملک مال بردار گاڑیاں اور ٹرک روزانہ گزر رہے ہیں۔ خاص طور پر 22 ویلرز ہیوی گاڑیاں اور دیگر بڑی گاڑیاں بغیر مناسب حفاظتی انتظامات کے چل رہی ہیں، جس سے حادثات کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ ہائی وے پولیس اور مقامی ٹریفک حکام کی غفلت یا کرپشن کے باعث یہ خطرہ مزید بڑھ رہا ہے، کیونکہ بعض اوقات ہیوی لوڈڈ گاڑیوں کو پیسے دے کر بغیر قانونی اجازت کے سفر کرنے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے نہ صرف ٹھٹھہ بلکہ سجاول، بدین، مٹھی اور تھرپارکر کے شہری بھی روزانہ جان کے خطرے میں سفر کرنے پر مجبور ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ اکثر ہیوی لوڈڈ ٹرک کے ڈرائیوروں کے پاس ضروری کاغذات موجود نہیں ہوتے اور محکمہ ٹرانسپورٹ کی طرف سے ان کی باقاعدہ انسپیکشن نہیں کی جاتی۔ اس لاپرواہی کے سبب گزشتہ برسوں میں ہزاروں افراد مختلف حادثات میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، تاہم نہ ضلع انتظامیہ، نہ صوبائی حکومت اور نہ ہی وفاقی حکومت نے اس سلسلے میں مؤثر اقدامات کیے ہیں۔
اہل علاقہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ نیشنل ہائی وے پر ہیوی لوڈڈ گاڑیوں کے روٹین چیکنگ اور قانونی اقدامات کو فوری نافذ کیا جائے تاکہ چھوٹی گاڑیوں اور عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔



