امریکا کی 66 عالمی اداروں و تنظیموں سے علیحدگی اور فنڈنگ روکنے کا اعلان،یہ ادارے امریکی مفادات کے خلاف کام کررہے ہیں، امریکی صدر

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا متعدد بین الاقوامی اور اقوام متحدہ کے اداروں سے علیحدگی اختیار کرے گا، جس میں عالمی موسمیاتی معاہدہ اور خواتین کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کا ادارہ بھی شامل ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق یہ ادارے امریکی قومی مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں، اس لیے ان سے علیحدگی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق امریکا 35 غیر اقوام متحدہ تنظیموں اور 31 اقوام متحدہ کے اداروں سے نکلنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان میں اقوام متحدہ کا فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج بھی شامل ہے، جسے 2015 کے پیرس ماحولیاتی معاہدے کی بنیاد اور دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بنیادی معاہدہ سمجھا جاتا ہے۔
ماحولیاتی تنظیم نیچرل ریسورسز ڈیفنس کونسل کے صدر اور سی ای او منیش باپنا نے کہا کہ اگر امریکا اس معاہدے سے الگ ہوتا ہے تو وہ اس سے نکلنے والا پہلا ملک بن جائے گا۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ معاہدے میں شمولیت نہ صرف اخلاقی ذمہ داری کے تحت اہم ہے بلکہ عالمی اقتصادی پالیسیوں اور مواقع پر اثر انداز ہونے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ بھی اعلان کیا گیا کہ امریکا اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین (UN Women) اور اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (UNFPA) سے بھی علیحدگی اختیار کرے گا۔ یہ ادارے عالمی سطح پر صنفی مساوات، خواتین کو بااختیار بنانے، خاندانی منصوبہ بندی اور بچوں کی صحت کے لیے کام کر رہے ہیں۔ امریکا پہلے ہی UNFPA کے لیے اپنی فنڈنگ میں کمی کر چکا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق علیحدگی کا مطلب ان اداروں میں شرکت اور مالی تعاون کا مکمل خاتمہ ہوگا۔ صدر ٹرمپ نے اس سے قبل اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل، فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے (UNRWA)، یونیسکو، عالمی ادارہ صحت (WHO) اور پیرس موسمیاتی معاہدے سے بھی امریکی فنڈنگ اور شمولیت میں کمی یا علیحدگی کا اعلان کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے مزید کہا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے ایسے اداروں پر خرچ کرنے کے بجائے قومی ترجیحات اور مفادات کے مطابق استعمال کیے جائیں گے۔ اس اقدام کے تحت اقوام متحدہ کا تجارتی اور ترقیاتی کانفرنس، انٹرنیشنل انرجی فورم، رجسٹر آف کنونشنل آرمز اور پیس بلڈنگ کمیشن بھی شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کا مقصد تمام بین الاقوامی تنظیموں، معاہدوں اور کنونشنز کا جائزہ لینا ہے، تاکہ امریکی شمولیت اور فنڈنگ واقعی قومی مفادات کے مطابق ہو۔
اب تک اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی جانب سے اس فیصلے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔



