انٹرنیٹ اب بالغ ہونے کو ہے؟

نہال ممتاز
2025 کو اگر ایک جملے میں بیان کیا جائے تو شاید یہ کہنا غلط نہ ہو کہ یہ وہ سال تھا جب مصنوعی ذہانت (AI) کا فضول مواد یا جسے مغرب میں “AI Slop” کہا جا رہا ہے، پوری قوت سے انٹرنیٹ پر چھا گیا۔ سرچ انجن، سوشل میڈیا، آن لائن خریداری کے پلیٹ فارمز، حتیٰ کہ سرکاری اداروں کے بیانات تک، ہر جگہ کم معیار اور غیر ضروری اے آئی مواد نے صارفین کو الجھن اور جھنجھلاہٹ میں مبتلا کر دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ رجحان نیا نہیں تھا، مگر 2025 میں اس نے خطرناک حد تک وسعت اختیار کر لی۔ ڈیٹا اینالیٹکس کمپنیوں کے مطابق، صرف ایک سال میں “AI Slop” کا ذکر انٹرنیٹ پر نو گنا بڑھا، جبکہ اس کے خلاف منفی ردعمل 50 فیصد سے تجاوز کر گیا۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ انگریزی زبان میں شائع ہونے والے ویب مواد کا نصف سے زیادہ حصہ کسی نہ کسی شکل میں اے آئی کے ذریعے تیار کیا جا رہا ہے۔
یہ صورتحال اس بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے:
کیا ہم ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں، یا ٹیکنالوجی ہمیں استعمال کر رہی ہے؟
حالیہ برسوں میں ٹیک کمپنیوں پر سرمایہ کاروں کا دباؤ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ ہر نئی پروڈکٹ میں “AI” کا لیبل لگانا ایک مجبوری بن گیا ہے۔ صارف کی اصل ضرورت، مسئلے کی نوعیت اور تجربے کی سادگی اکثر پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ ماہرینِ صارف تجربہ (UX) اسے “حل پہلے، مسئلہ بعد میں” کی سوچ قرار دیتے ہیں، جو ڈیزائن کے بنیادی اصولوں کے بالکل برعکس ہے۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ صارف جن سادہ فیچرز کا عادی تھا، وہ اچانک چیٹ بوٹس اور خودکار جوابات میں بدل گئے۔ مثال کے طور پر، سادہ سرچ بار کو اے آئی چیٹ میں تبدیل کرنا بظاہر جدید قدم تھا، مگر عملی طور پر صارفین کے لیے اذیت کا باعث بنا۔ یہی وجہ ہے کہ کئی کمپنیاں خاموشی سے اپنے فیصلوں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئیں۔
2025 میں یہ تجربات صرف ڈیجیٹل دنیا تک محدود نہیں رہے۔ اے آئی پر مبنی صارف مصنوعات، جیسے اسمارٹ پنز اور دیگر گیجٹس، بھی مارکیٹ میں آئے، مگر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں تک کہ بڑی ٹیک کمپنیوں کے سربراہان نے بھی اعتراف کیا کہ یہ مصنوعات “ایسے مسئلے کا حل تھیں جو حقیقت میں موجود ہی نہیں تھا”۔
دلچسپ موڑ اس وقت آیا جب صارفین کا ردعمل غصے سے بے نیازی میں بدلنے لگا۔ ابتدا میں شدید مخالفت ہوئی، مگر پھر صارفین نے ایسے پلیٹ فارمز کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا جہاں اے آئی مواد حد سے زیادہ تھا۔ نئی اے آئی ایپس لانچ ہوئیں، مگر ان کے صارفین کی تعداد توقعات سے کہیں کم رہی۔ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ ہر چمکتی چیز ٹیکنالوجی کی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی۔
یہاں ایک اور اہم پہلو سامنے آتا ہے:
زیادہ اے آئی ہمیشہ بہتر تجربہ نہیں دیتی۔
ماہرین کے مطابق، صارف ہر ڈیجیٹل سروس کے بارے میں ایک ذہنی خاکہ (Mental Model) رکھتا ہے۔ جب اچانک وہ سروس اس توقع کے خلاف کام کرنے لگے تو الجھن، بداعتمادی اور مایوسی جنم لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے “جدید” اے آئی فیچرز ناکام ہو گئے۔
اس تناظر میں 2026 کے لیے ایک نیا رجحان ابھرتا دکھائی دے رہا ہے، جسے ماہرین “بورنگ اے آئی” کا نام دے رہے ہیں۔ یعنی ایسی اے آئی جو نظر نہ آئے، شور نہ مچائے، مگر پسِ منظر میں رہتے ہوئے صارف کی زندگی کو آسان بنا دے۔ مثال کے طور پر، مصنوعات کے ریویوز کا مختصر، واضح خلاصہ، یا ایسا فلٹر جو صارف کو غیر ضروری اے آئی مواد سے بچا سکے۔
یہ وہ اے آئی ہے جو توجہ مانگتی نہیں، بلکہ سہولت فراہم کرتی ہے۔ نہ ویڈیوز کا سیلاب، نہ چیٹ بوٹس کی یلغار — صرف خاموش افادیت۔
یورپ کے تناظر میں یہ بحث اور بھی اہم ہو جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، یورپی ٹیک ایکو سسٹم کے لیے بہتر راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ بڑے، شوخ پلیٹ فارمز کے مقابلے میں چھوٹی، مخصوص اور مسئلہ حل کرنے والی اے آئی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کرے۔ ایسی ٹیکنالوجی جو اشتہارات یا ہیرا پھیری کے بجائے حقیقی سماجی اور صنعتی مسائل حل کرے۔
آخرکار یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ 2025 اے آئی کے شور و غل کا سال تھا، مگر 2026 شاید سمجھداری، توازن اور بالغ رویّے کا سال ثابت ہو۔
سوال یہ نہیں کہ ہم کتنی اے آئی استعمال کرتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم اسے درست جگہ، درست مقصد اور درست حد میں استعمال کر رہے ہیں یا نہیں؟



