تھرپارکر میں غیرقانونی شکارعروج پر، 4 ہرن ہلاک، دیہاتیوں کا زخمی ہرن سڑک پر رکھ کراحتجاجی دھرنا

مٹھی (رپورٹ : میندھرو کاجھروی / جانو ڈاٹ پی کے) ضلع تھرپارکر میں غیرقانونی شکار عروج پر پہنچ گیا ہے، آئے روز کسی نہ کسی علاقے میں غیر قانونی شکار معمول بن گیا ہے۔ ڈیپلو، مٹھی، چھاچھرو اور ننگرپارکر کے علاقوں میں آئے روز غیر قانونی شکار کیا جاتا ہے۔
گزشتہ روز ننگرپارکر کے علاقوں سمتھ اور مامچیرو میں نامعلوم شکاریوں نے غیر قانونی شکار کیا۔ فائرنگ کی آواز سن کر گاؤں والوں نے شکاریوں کا پیچھا کیا اور وہ بھاگ گئے۔
گاؤں والوں کے مطابق شکاری ایک ہرن کو زخمی حالت میں چھوڑ کر 4 ہرن لے کر فرار ہو گئے۔دیہاتیوں کی بڑی تعداد زخمی ہرن کو لے کر ڈانو دھاندھل پر پہنچ گئے اور احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دیا۔
دیہاتیوں نے زخمی ہرن کو اذیت ناک حالت میں سڑک پر رکھ کر احتجاج کیا جبکہ محکمہ وائلڈ لائف بار بار شکایات کے باوجود غیر قانونی شکار پر قابو نہ پاسکا۔
احتجاج کرنے والے دیہاتیوں کا کہنا تھا کہ یہ کسی شخص کی لاش نہیں، یہ ایک زخمی ہرن ہے جسے شکاری آدھا مردہ چھوڑ کر 4 ہرن لے گئے۔ گاؤں والے اپنی جنگلی حیات کو اتنی ہی اہمیت دیتے ہیں جتنی ان کے اپنے خاندان کو۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ ہمارا ہرن نہیں بلکہ ہمارا خاندان ہی مارا گیا ہے۔
گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ ایسی ناانصافی اچھی نہیں، گاؤں والے اپنی جنگلی حیات کو بچانے کے لیے اپنی جیب سے خرچہ کر کے جنگلی جیوت کو بچاتے ہیں اور احتجاج کر رہے ہیں۔ ننگرپارکر کی انتظامیہ اور وائلڈ لائف ڈپارٹمینٹ آنکھیں بند کرکے شکاریوں کے گلے میں رسی ڈالے۔



