سکھر:گمبٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کا تاریخی سنگِ میل

سکھر (جانوڈاٹ پی کے)گمبٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (GIMS) نے تقریباً 1100 کامیاب لیور ٹرانسپلانٹ اور 200 سے زائد بون میرو ٹرانسپلانٹ انجام دے کر ملکی صحت کے شعبے میں ایک تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔
گمس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رحیم بخش بھٹی نے اس غیر معمولی کامیابی کا سہرا سندھ حکومت کو دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی مسلسل سرپرستی اور تعاون کے باعث گمس پاکستان بھر اور بیرون ملک سے آنے والے مریضوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بلا معاوضہ علاج فراہم کر رہا ہے۔
ڈاکٹر بھٹی کے مطابق یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر پیچیدہ لیور ٹرانسپلانٹ ایک عوامی شعبے کے ادارے میں کامیابی سے انجام دیے گئے ہوں، جس کی مثال ایشیا میں بھی کم ہی ملتی ہے۔ سندھ کے علاوہ پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے مریضوں نے لیور اور بون میرو جیسے مہنگے ترین علاج بالکل مفت حاصل کیے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ لیور ٹرانسپلانٹ ڈپارٹمنٹ کا قیام جنوری 2016 میں عمل میں آیا اور اپریل 2016 میں پہلا کامیاب ٹرانسپلانٹ کیا گیا۔ ابتدا میں بین الاقوامی ماہر سرجنز کی خدمات حاصل کی گئیں، تاہم اب گمس کے اپنے تربیت یافتہ پاکستانی سرجن کامیابی سے یہ پیچیدہ سرجریاں انجام دے رہے ہیں۔
گمس میں ملک کا سب سے بڑا لیور ٹرانسپلانٹ پروگرام جاری ہے، جس میں 60 بستروں پر مشتمل وارڈ، 30 بستروں کا آئی سی یو، 10 بستروں کی لیور ایمرجنسی، 6 جدید آپریشن تھیٹرز اور 80 مریضوں کے کمرے شامل ہیں۔
ڈاکٹر رحیم بخش بھٹی کے مطابق لیور ٹرانسپلانٹ کی کامیابی کی شرح 90 فیصد ہے، جو کئی ترقی یافتہ ممالک کے مساوی سمجھی جاتی ہے۔ گمس جدید ترین مشینری اور سہولیات سے آراستہ ہے، جہاں دیگر پیچیدہ ٹرانسپلانٹس اور بیماریوں کا علاج بھی بین الاقوامی معیار کے مطابق کیا جا رہا ہے۔
اپنے معمول کے دورے کے دوران ڈاکٹر بھٹی نے بون میرو ٹرانسپلانٹ (BMT) سینٹر کا بھی معائنہ کیا، جہاں انہوں نے پاکستان بھر سے آئے مریضوں سے ملاقات کی اور 100 سے زائد کینسر کے مریضوں میں مہنگے انجیکشن تقسیم کیے، جن کی قیمت مقامی مارکیٹ میں ایک لاکھ روپے سے زائد ہے۔
بون میرو ٹرانسپلانٹ سینٹر خون کے امراض اور کینسر کے مریضوں کے لیے امید کی ایک روشن کرن بن چکا ہے اور اب تک 200 سے زائد کامیاب ٹرانسپلانٹ انجام دے چکا ہے۔
ڈاکٹر بھٹی نے کہا کہ خیرپور ضلع کے تعلقہ گمبٹ میں قائم گمس عوامی خدمت، انسانیت اور ہمدردی کی عملی تصویر ہے، جہاں سندھ کے پسماندہ علاقوں سمیت ملک بھر، آزاد کشمیر، افغانستان اور دیگر ایشیائی ممالک کے مریض علاج کے لیے آ رہے ہیں۔



