لاہور ہائیکورٹ نے پتنگ بازی پر حفاظتی پلان پیش کرنے کی ہدایت کر دی

لاہور (جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے بسنت کے موقع پر پتنگ بازی کی اجازت کے نوٹیفکیشن پر پولیس حکام کو شہریوں کی حفاظت کے لیے حفاظتی پلان پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔
لاہور ہائیکورٹ میں کائٹ فلائنگ آرڈیننس اور ڈی سی کی جانب سے جاری بسنت اجازت کے نوٹیفکیشن کے خلاف متفرق درخواست پر سماعت ہوئی، جس کی صدارت جسٹس ملک اویس خالد نے کی۔ سماعت درخواست گزار کی جانب سے جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی دائر کی گئی درخواست پر ہوئی۔
دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے مؤقف اختیار کیا کہ پتنگ بازی کے دوران شہریوں کی جان و مال کا تحفظ آئین کے تحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اس لیے عدالت سے استدعا کی کہ کائٹ فلائنگ آرڈیننس اور پتنگ بازی کی اجازت سے متعلق نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیا جائے۔
عدالت نے ایڈیشنل سیکرٹری جوڈیشل سے استفسار کیا کہ شہریوں کی حفاظت کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں اور سیفٹی کو کیسے یقینی بنایا جائے گا۔ درخواست میں شامل تصاویر میں ایک بچے کا گلا کٹا ہوا بھی دکھایا گیا ہے، جس پر عدالت نے سخت نوٹس لیا۔
عدالت نے آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور کو ہدایت کی کہ حفاظتی اقدامات کے بارے میں رپورٹ پیش کریں اور بتایا جائے کہ حفاظتی اقدامات کو کیسے ریگولیٹ کیا جائے گا۔
اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل انوار حسین نے دوران سماعت اعتراض کیا کہ آرڈیننس اب ایکٹ بن چکا ہے، اس لیے درخواست قابل سماعت نہیں، تاہم عدالت نے کہا کہ قانونی پہلو بعد میں دیکھے جائیں گے، جبکہ موجودہ درخواست شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے دائر کی گئی ہے۔
بعدازاں عدالت نے ایڈیشنل سیکرٹری جوڈیشل کو ہدایت دی کہ وہ آئی جی اور سی سی پی او سے حفاظتی پلان لیکر پیش کریں اور سماعت کو مزید کارروائی کے لیے 16 جنوری تک ملتوی کر دیا۔



