بس ڈرائیور سے صدارت تک کا سفر،وینزیلا کے صدرنکولس مادوروکون؟

لاہور(جانو ڈاٹ پی کے سپیشل)نکولس مادورو (Nicolás Maduro) جنوبی امریکی ملک وینزویلا کے موجودہ صدر ہیں۔ وہ2013 میں اقتدار میں آئے اور اس کے بعد سے ملکی سیاست، معیشت اور عالمی سطح پر شدید تنازعات کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔مادورو کا تعلق سوشلسٹ نظریات سے ہے اور وہ وینزویلا کے سابق صدر ہیوگو شاویز کے قریبی ساتھی اور سیاسی جانشین سمجھے جاتے ہیں۔

ابتدائی زندگی اور سیاسی سفر

کراکس پر اچانک کارروائی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہفتے کے روز امریکی افواج نے مادورو کو گرفتار کر لیا ہے۔ٹرمپ، جن کی حکومت وینزویلا کے صدر پر منشیات کے کارٹلز چلانے اور دیگر جرائم کے الزامات عائد کرتی رہی ہے، گزشتہ کئی ماہ سے مادورو پر اقتدار چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔

نکولس مادورو23نومبر1962کو ایک محنت کش طبقے کے خاندان میں پیدا ہوئے۔وہ ایک ٹریڈ یونین رہنما کے بیٹے ہیں۔ 1992 میں جب فوجی افسر ہیوگو شاویز نے ناکام بغاوت کی، اس وقت مادورو بس ڈرائیور کے طور پر کام کر رہے تھے۔انہوں نے شاویز کی رہائی کے لیے مہم چلائی اور ان کے بائیں بازو کے ایجنڈے کے پُرجوش حامی بن گئے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق مادورو اور شاویز کے درمیان طویل اور قریبی تعلق تھا، جو شاویز کی قید کے زمانے سے چلا آ رہا تھا۔

شاویز کے1998کے انتخاب کے بعد مادورو پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے۔بعد ازاں وہ قومی اسمبلی کے صدر بنے اور پھر وزیر خارجہ مقرر ہوئے، جہاں انہوں نے تیل سے حاصل ہونے والی امدادی اسکیموں کے ذریعے عالمی سطح پر اتحاد بنانے کے لیے دنیا بھر کے دورے کیے۔

مہمات کے دوران سبز جوس پینے کے شوقین مادورو، جنہیں وہ صحت کے لیے مفید قرار دیتے تھے، اپنے مرحوم سرپرست کے سیاسی وارث سمجھے جاتے ہیں۔2012میں ہیوگو شاویز نے انہیں اپنا منتخب جانشین نامزد کیا، اور شاویز کی وفات کے بعد 2013 میں مادورو معمولی فرق سے صدر منتخب ہوئے۔ان کے دورِ حکومت میں وینزویلا شدید معاشی تباہی کا شکار ہوا، جس کی نمایاں خصوصیات شدید افراطِ زر اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی قلت تھیں۔ ان کی حکمرانی مبینہ طور پر دھاندلی زدہ انتخابات، خوراک کی کمی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے مشہور رہی، جن میں2014اور2017میں احتجاجی مظاہروں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن بھی شامل ہیں۔

لاکھوں وینزویلا کے شہری ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک چلے گئے۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق، 2016 میں کئی برسوں کے معاشی اعداد و شمار جاری ہونے کے بعد مادورو نے معاشی ایمرجنسی نافذ کی، جس کے بعد آئینی ہنگامی حالت بھی نافذ کر دی گئی۔

گزشتہ سال رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق، وینزویلا کے صدر کو ڈرامائی انداز اپنانے کا خاص شوق ہے، اور وہ اکثر اپوزیشن سیاستدانوں کو’’فاشسٹ شیطان‘‘ اور ’’سرنیمز‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں،جو ان کے مبینہ امیر پس منظر پرطنز ہے۔

ملک کے اندر اور باہر ناقدین کا کہنا ہے کہ مادورو ایک آمر ہیں جنہوں نے سیاسی مخالفین کو قید کیا یا ان پر مظالم ڈھائے، اور اپوزیشن امیدواروں کو بارہا اور غیر منصفانہ طور پر انتخابات میں حصہ لینے سے روکا۔

2020 میں مادورو کی حکومت کو امریکا اور دیگر طاقتوں کی جانب سے سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، جب واشنگٹن نے ان پر کرپشن اور دیگر الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کی۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ابتدا میں مادورو کی گرفتاری پر 1 کروڑ 50 لاکھ ڈالر انعام رکھا گیا تھا، جسے اگست 2025 میں بڑھا کر 5 کروڑ ڈالر کر دیا گیا۔ مادورو نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔

جنوری2025میں وہ2024 کےانتخابات کے بعد تیسری مدت کے لیے صدر کے عہدے کا حلف اٹھا، تاہم ان انتخابات کو عالمی مبصرین اور اپوزیشن نے بڑے پیمانے پر دھاندلی زدہ قرار دیا۔ حکومت کی فتح کے اعلان کے خلاف احتجاج کرنے والے ہزاروں افراد کو جیل میں ڈال دیا گیا۔

گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن نے قرار دیا کہ ملک کی بولیوارین نیشنل گارڈ (GNB) نے ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران سیاسی مخالفین کو نشانہ بناتے ہوئے سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا، اور اکثر ان جرائم پر انہیں استثنا حاصل رہا۔

مزید خبریں

Back to top button